Al-Risala · May 2011 · page 39

اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

کیا کریں، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشری عامر، پاکستان)

جواب

پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک منفی ملک کے طور پر وجود میں آیا۔ جس چیز کو پاکستان کے لوگ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کہتے ہیں، وہ کیا ہے۔ وہ دراصل اینٹی ہندو سوچ (anti-Hindu thinking) کا ایک خوب صورت نام ہے، اور اینٹی ہندو سوچ کا مطلب ہے— اینٹی مدعوسوچ، جو بلاشبہہ اسلام میں حرام ہے۔ پاکستان اولاً اینٹی ہندو فکر کے تحت بنا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ فکر اینٹی آل فکر (anti-all thinking) بن گیا۔ پاکستان کے تمام مسائل دراصل اسی منفی سوچ (negative thinking) کا نتیجہ ہیں۔

میرے اندازے کے مطابق، اب یہ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ پاکستان میں منفی سوچ کا خاتمہ تقريباً ناممکن ہے۔ مجھے امید نہیں کہ اب پاکستان منفی سوچ سے مثبت سوچ کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب پاکستان میں مثبت بنیادوں پر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں۔ اب صرف ایک ہی چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ افراد اپنے آپ کو اس منفی طوفان سے بچائیں۔ سب سے پہلے آپ خود یہ کیجئے کہ آپ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح خالی ہو۔ اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں، اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتے وار اجتماع کی شکل میں اُن کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔

میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند (realist) بنیں، رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ فکر اقبال اور فکر مودودی کے خول سے مکمل طور پر باہر آ جائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page