اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
لوگ موجود تھے۔ حاضرین کے تاثر کے مطابق، دعوتی اور تربیتی اعتبار سے یہ اجتماع بہت کامیاب رہا۔ اس موقع پر مختلف لوگوں نے اپنے تاثرات بیان کئے۔ اُن میں سے کچھ تاثرات یہاں مختصر نقل کئے جاتے ہیں: • دعوہ میٹ جس کا اہتمام الرسالہ فورم (کشمیر) کے تعاون سے کیا گیا تھا، ایک تاریخی اجتماع تھا۔ اس دعوتی اجتماع کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کشمیریوں کو الرسالہ مشن کے داعیِ اول اور اس دور کے مجدد مولا نا وحید الدین خان صاحب سے براہ راست استفادہ کا قیمتی موقع نصیب ہوا۔ اس اجتماع میں مولانا نے براہ راست کشمیریوں کو مخاطب کیا اور اُن کی اصل حیثیت اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ مولانا کے بقول، کشمیر میں سخت حالات کے بطن سے ایک دعوہ ایکسپلوژن ہونے والا ہے۔ کشمیریوں کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس موقع کو استعمال کریں اور اس عظیم امکان کو واقعہ بنائیں ۔ اس اجتماع میں مولانا نے نہایت اعلیٰ پایہ کے خطابات فرمائے جن سے سامعین کے لیے کشمیر میں کام کے راستے واضح ہو گئے۔ سی پی ایس دہلی کے ممبران نے ہر پہلو سے نظم وضبط اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ میں خدا سے دست بہ دعا ہوں کہ وہ ہم کو اخوان رسول کی جماعت میں شامل فرمائے۔ (نذیر الاسلام، پلوامہ، کشمیر) • اس طرح کی میٹنگ میں شمولیت میرے لیے ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔ ’’اگر قرآن مجھے بھی ملانہ ہوتا تو آج میں آپ کے بیچ نہ ہوتا۔ ‘‘ مسٹر رجت ملہوترا نے جب یہ الفاظ کہے تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میں کافی دیر تک اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا۔ قرآن کو اپنے غیر مسلم بھائیوں تک پہنچانے کو ہم قرآن کی توہین سمجھتے ہیں۔ اسی منفی نفسیات نے ہم کو دعوتی مشن سے اندھیرے میں رکھا ہے۔ اس میٹ سے ہم کو کشمیر کو حقیقی اسلامی کشمیر بنانے کا آغاز مل چکا ہے، جب پتھر کے بدلے کشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں اپنے مدعو کے لیے قرآن ہوگا۔ (مجتبیٰ حسین، سری نگر، کشمیر) • یہ دعوہ میٹ کشمیر کی اصل تحریک کو صحیح راستے پر لانے کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاہ ہمدان نے بے پناہ قربانی دے کر کشمیریوں کو جو تحریک دی تھی، واقعی اس سے انحراف ہوا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج اپنے محسن کے عظیم مشن کی تجدید کے لیے کشمیریوں کی ایک ٹیم ابھر رہی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تاریخ پھر ایک بار دہرائی جا رہی ہے۔ جس مشن کو شاہ ہمدان نے کشمیر میں پھیلایا، اس میٹ کے ذریعے اب اس کے امکانات ہم پر اس قدر روشن ہو گئے ہیں کہ کشمیریوں کو اسے پوری دنیا میں پھیلانے کا موقع کھل گیا ہے۔ (حمید اللہ حمید، بیروہ، کشمیر) • الرسالہ مشن نے جو خاص نعمت مجھے عطا کی، وہ مثبت سوچ ہے۔ پہلے میں قوم پرستی کے جذبات میں جی رہا تھا اور میں اپنے مدعو کو اپنا دشمن سمجھ رہا تھا، لیکن الرسالہ نے مجھے یہ فکر عطا کی کہ تمھارا مدعو تمھیں جنت میں لے جائے گا۔ پہلے میرا مسئلہ، میری قوم کا مسئلہ تھا، اب یہ آخرت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ الرسالہ نے مجھے نئی فکر دی، یعنی غیر مسلم بھائیوں تک اللہ کا کلام پہنچانا۔ الرسالہ مشن سے مجھے خود کی دریافت (discovery) ہوئی اور اب میں مدعو کی خیر خواہی میں جی رہا ہوں، اور اسی پر اپنا خاتمہ چاہتا ہوں۔ مولانا وحید الدین خان صاحب عصر حاضر کے امام ہیں اور ان کی فکر فطرت کی آواز ہے اور اسی میں پوری انسانیت کی نجات ہے۔ (شفیع احمد ڈار، ہنڈ وارا، کشمیر)