اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰
خبر نامہ اسلامی مرکز - 210
1- نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب (Constitution Club) میں 9 جنوری 2011 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کو ایک جرمن ادارے نے منظم کیا تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا: Inter-religious Dialogue & Discussions for Harmonious Living پروگرام میں دوسرے مقامی شرکاء کے علاوہ، 25 جرمن طلبا اور اسکالرس نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز نے یہاں اسلام کے تعارف پر ایک مختصر تقریر کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے انگریزی زبان میں خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر حاضرین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ 2- ایوان غالب (نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں 9 جنوری 2011 کو قرآن کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کی دعوت پرسی پی ایس (نئی دہلی) کے ساتھیوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور حاضرین کو دعوتی لٹریچر برائے مطالعہ دیا۔ 3- جنیوا (سوئزرلینڈ) کی ایک رسرچ اسکالر مس صوفیہ (Sophie Schargo) 10 جنوری 2011 کو صدر اسلامی مرکز کے دفتر میں آئیں۔ وہ جنیوا یونی ورسٹی میں اس موضوع پر ریسرچ کر رہی ہیں: Contradiction Between Secularism and Minorities' Rights - Case of Muslim Women's Rights اُن سے ان کے زیر تحقیق موضوع کے علاوہ، اسلام کے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ واپس جاتے ہوئے انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے بارے میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر رجت ملہوترا سے کہا: If western peoples know your Maulana's thoughts they will be astonished. مس صوفیہ پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
4- نئی دہلی کے مسٹر اجمل 13 جنوری 2011 کو ٹوکیو (جاپان) کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لے گئے تھے۔ انھوں نے جاپان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں تک اس لٹریچر کو پہنچایا۔ 5- بڈگام (کشمیر) کے ساتھی وہاں موجودانڈین آرمی کو مسلسل قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچارہے ہیں۔ اس سلسلے میں 14 جنوری 2011 کو وہاں کے ایس ایس پی مسٹر آتم چند کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ 6- لوک سبھا ٹی وی (نئی دہلی) نے 20 جنوری 2011 کو اس موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا: Common Harmony انٹرویو کے بعد ٹی وی کی ٹیم کے لوگوں کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ترجمہ دیا گیا۔ 7- سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے وسیع ہال میں فروری 2011 کو ایک اجتماع ہوا۔ یہ کشمیر دعوہ میٹ (Dawah Meet II: Kashmir Chapter) کا اجتماع تھا۔ اس میں الرسالہ مشن سے وابستہ کشمیر کے 60 لوگوں نے شرکت کی۔ یہ کشمیر کے مختلف مقامات کے نمائندہ افراد کا ایک اجتماع تھا۔ اس میں علماء اور اعلیٰ تعلیم یافتہ