اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴
کیا گیا اور ناظرین نے کہا کہ ہمارے مسائل کے لیے اگر کوئی قابل عمل رہنمائی ممکن ہے تو وہ صرف الرسالہ کے فکر میں ہے۔ پاکستان میں بڑے پیمانے پر الرسالہ اور الرسالہ لٹریچر پھیل رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف مقامات پر وہاں کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں ہر ماہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ چھاپ کر لوگوں کے درمیان اس کو پھیلا رہے ہیں۔ 18- برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی پہلی مسلم منسٹر (Cabinet Minister) مس سعیدہ وارثی کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور پرافٹ آف پیس بذریعہ ڈاک روانہ کی گئی۔ کتابیں ملنے پر ان کے دفتر (لندن) سے 15 فئروری 2011 کو ایک خط ملا۔ اس خط کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
I am writing on behalf of Saeeda Baroness Warsi to thank you for the enclosed books. Baroness Warsi looks forward to reading both “The Prophet of Peace” and Maulana Wahiduddin Khan’s translation of the Holy Quran (Gulsum Aytac, Office of the Party, Co-chairman)
19- آل انڈیا ریڈیو (اردو) پر 16 فئروری 2011 کو ڈاکٹر فریدہ خانم کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ آدھ گھنٹے کی تقریر تھی۔ اس تقریر کا موضوع تھا ’’اسلام میں خواتین کا مقام‘‘۔ 20- غالب اکیڈمی (نظام الدین، نئی دہلی) میں 21 فروری 2011 کو تنظیم ابناء قدیم دار العلوم دیوبند کی طرف سے ایک آل انڈیا کنونشن ہوا۔ اس موقع پر سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ 21- فلسطین کے کنونشن سنٹر (یروشلم) میں 25-20 فروری 2011 کو ایک انٹرنیشنل بک فر (Jerusalem International Book Fair) ہوا۔ اس بک فر میں گڈ رورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ یہاں بڑی تعداد میں وزٹرز آئے۔ اس موقع پر فلسطین کے یہودی اور مسیحی لوگوں کو بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ مسجد اقصی کے قریب ایک بڑے ہوٹل میں قرآن کا اسٹینڈ رکھا گیا ہے۔ یہاں سے بڑی تعداد میں غیر مسلم زائرین قرآن کا ترجمہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں چند وزٹرز کے تبصرے (comments) نقل کئے جاتے ہیں:
“I would love to have it, I don’t have one”. “A prize no one can refuse.”
“It will be an excitement, wish you a success.”
“I would very much like to read it. In fact I have a friend who would be interested in it too, can I take another copy.” “I got it, you gave me last year, thank you”
“We should read the Quran sometimes to know what the real Islam is, thank you”
“Thank you, excellent, I will take it home and I promise to read it”