انسانی زندگی کا مقصد
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴
یہ دریافت جب دل کی گہرائیوں کے ساتھ انسان کی نفسیات میں شامل ہو جائے تو اسی کا نام معرفت ہے۔ ایک شخص نے اپنے ایک محبوب بیٹے کے نام اپنے خط میں اس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ـــ میرے دل کی گہرائیوں کو روشن کرنے والے چاند۔ یہی احساس جب خداوند عالم کی نسبت سے پیدا ہو جائے تو اسی کا نام معرفت ہے۔
مثلاً آپ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچتے ہیں: ولو أنّ ما فی الأرض من شجرة أقلام والبحر يمدّه من بعده سبعة أبحر، ما نفدت كلمات الله (31:27)۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرتے ہوئے آپ کے سینے میں جذبات کا ایک طوفان امڈ پڑتا ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ خدا اگر قدرت کے اعتبار سے ایک انتہا پر ہے، تو انسان عجز کے اعتبار سے دوسری انتہا پر ہے۔ اُس وقت آپ اشک بار آنکھوں کے ساتھ کہہ اٹھتے ہیں کہ ـــ خدایا، جس طرح تیری صفت ما نفدت كلمات الله ہے، اُسی طرح انسان کی صفت ’ما نفدت عجز الانسان‘ ہے۔
یہ گویا کہ دریافت کی آخری حد ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان، قادر مطلق کے مقابلے میں عاجز مطلق کی آخری حد (extent) بناتا ہے۔ یہ شعورِ انسانی کا وہ مقام ہے، جس کا تجربہ انسان کے سوا کوئی دوسری مخلوق نہیں کر سکتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ستارے اور سیارے، پہاڑ اور سمندر انسان پر رشک (envy) کرنے لگیں۔ یہ تجربہ کسی بندے کے لیے اعلیٰ دریافت کی حیثیت رکھتا ہے، اور اعلیٰ دریافت ہی کا دوسرا نام اعلیٰ معرفت ہے۔ یہ اعلیٰ معرفت اس وسیع کائنات میں انسان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
انسانی زندگی کا مقصد
قرآن کی سورہ الذاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (51:56) یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ اس میں ”لیعبدون“ کی تشریح عبد اللہ بن عباس نے ”ليعرفون“ سے کی ہے، یعنی خالق کی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues