Al-Risala · June 2011 · page 5

انسانی زندگی کا مقصد

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۵

معرفت کے لیے۔ یہی بات ایک روایت میں ان الفاظ میں آئی ہے: کنت کنزاً مخفیاً، فأردت أن أعرف فخلقت الخلق (کشف الخفاء، 2/1011)

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی شروع سے آخر تک معرفت کا ایک سفر ہے۔ اس سفر معرفت کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں گزرتا ہے، اور اس کا انتہائی اور ابدی حصہ آخرت کی دنیا میں گزرے گا۔ معرفت ایک لامتناہی سمندر ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس لامتناہی سفر کا مسافر بنے، موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں بھی اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں بھی۔ موجودہ دنیا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: واتاکم من كل ما سألتموه (14:34) یعنی خدا نے تم کو ہر اُس چیز میں سے دیا جس کو تم نے اس سے مانگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ وہ معرفت کا سفر طے کرے، لیکن جینے کے سامان کے طور پر اس کو وہ تمام چیزیں دے دی گئی ہیں جن کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ آخرت کی زندگی بھی حقیقتہً معرفت کی زندگی ہے۔ دنیا کی زندگی میں معرفت کا جو سفر ابتدائی طور پر شروع ہوا تھا، وہ آخرت کی زندگی میں بھی اپنے اعلیٰ ترین صورت میں جاری رہے گا۔ آخرت میں انسان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ خالق کا براہِ راست مشاہدہ کرے، وہ خالق کا شریکِ مجلس بنے، وہ خالق سے کلام کرسکے۔ تاہم آخرت میں انسان خدا کا مہمان بن کر رہے گا۔ دنیا میں زندگی کی جو چیزیں اس کو درجۂ ضرورت میں ملی تھیں، وہ آخرت میں انسان کو درجۂ اشتهاء (41:31) میں حاصل ہو جائیں گی۔ معرفت ایک ذاتی دریافت قرآن میں، ہزار سے زیادہ آیتیں ہیں۔ ان میں ایک آیت وہ ہے جو قرآن کی سب سے زیادہ لمبی آیت ہے۔ یہ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 282 ہے۔ یہ آیت، قرض (debt) کی کتابت (writing) کے بارے میں ہے۔ اس آیت میں نہ صرف قرض کے معاملے کی کتابت کا حکم ہے، بلکہ اس کی جزئی تفصیلات تک اس میں بتائی گئی ہیں۔

اس کے برعکس معاملہ معرفت کا ہے۔ قرآن میں معرفت کا ذکر ہے، لیکن اس میں کہیں بھی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page