اعلیٰ معرفت سے محرومی کیوں
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵
کوئی بھی دوسری چیز اس معاملے میں آدمی کو بچانے والی نہیں۔
معرفت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جو آدمی معرفت کے سفر کا مسافر بنے، اس کو بار بار ایسی صورت حال کا سامنا پیش آئے گا، جب کہ وہ محسوس کرے گا کہ وہ شبہہ اور یقین (doubt and conviction) کے درمیان ہے۔ وہ ایک چیز پر یقین کرنا چاہتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ کچھ ایسے اسباب بھی ہیں جو اُس کو شبہہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ایک چیز کو ماننا چاہتا ہے، لیکن وہ اس کو مان نہیں پاتا۔ تذبذب (hesitation) کی یہ حالت اکثر لوگوں پر گزرتی ہے۔ یہ تذبذب معرفت کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
جب بھی کوئی شخص تذبذب کی کیفیت کا شکار ہوتا ہے تو ہمیشہ اس کے سامنے دو حالتیں ہوتی ہیں ۔ ایک طرف ، عقل (reason) کی سطح پر وہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں چیز علمی معیار پر بالکل درست ہے، لیکن اسی کے ساتھ اپنے روایتی خیالات کی بنا پر وہ اس شک میں رہتا ہے کہ کہیں اس کے اندر کوئی غلطی نہ ہو۔ علمی طور پر مدلل ہونے کے باوجود موہوم شبہہ کی بنا پر بے یقینی کی حالت میں پڑا رہتا ہے۔
بے یقینی کی یہ حالت کسی کے لیے عذر نہیں بن سکتی۔ معرفت کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تذبذب کی اِس حالت سے نکلے۔ وہ شبہہ کے مقابلے میں علم کو ترجیح (priority) دے۔ وہ بے ثبوت شک کی فضا سے باہر آئے۔ وہ ثابت شدہ چیز پر یقین کرتے ہوئے اس کو اختیار کرلے۔ یہ معرفت کے حصول کی لازمی شرط ہے۔
اعلیٰ معرفت سے محرومی کیوں
قرآن کے مطابق ، خدا کی اعلیٰ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جس کو اللہ سے اعلیٰ تعلق قائم ہو جائے ۔ اللہ سے اعلیٰ تعلق کی پہچان یہ ہے کہ انسان کو اللہ سے حب شدید (165: 2) اور اللہ سے خوف شدید (18 :9) پیدا ہو جائے ۔ جب کسی انسان کو اللہ کے ساتھ اس قسم کا گہرا تعلق حاصل ہو جائے تو اس کے اندر ذکر کثیر (41 :33) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ، یعنی اللہ کو بہت زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues