Al-Risala · June 2011 · page 16

اعلیٰ معرفت سے محرومی کیوں

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۶

یاد کرنا، اللہ کے لیے بہت زیادہ سوچنا۔ اللہ کے ساتھ تعلق میں اگر ایک فی صد بھی کمی آ جائے تو ایسے انسان کو اللہ کی اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہوگی۔

یہود کا حال بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ ان کا گہرا تعلق اللہ سے نہ رہا، بلکہ اپنے احبار اور رہبان سے ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں وہ اللہ کی اعلیٰ معرفت سے محروم ہو گئے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہے۔ مسلمانوں کے ہر گروہ کے کچھ بڑے (bigs) ہیں اور ان کا گہرا تعلق اپنے انھیں بڑوں سے ہے، نہ کہ خداوند ذوالجلال سے۔ اپنے ان بڑوں کو انھوں نے مقدس نام دے رکھے ہیں۔ مثلاً اکابر، اسلاف، مشائخ، بزرگان دین، وغیرہ۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے انھیں مفروضہ بڑوں سے گہرا قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ اس گہرے قلبی تعلق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے ان بڑوں کے خلاف تنقید کو بالکل پسند نہیں کرتے۔

یہ غیر خدا کے ساتھ حب شدید کا تعلق قائم کرنا ہے اور جو لوگ کسی غیر خدا کے ساتھ حب شدید کی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کی اعلیٰ معرفت کی توفیق نہیں پاتے۔ ایسے لوگوں کے حصے میں صرف رسمی عقیدہ آتا ہے، نہ کہ اعلیٰ ایمان۔ جو آدمی جو آدمی کو اعلیٰ معرفت تک پہنچانے والا ہو۔ اعلیٰ معرفت کی ایک قیمت ہے، اور یہ قیمت ادا کیے بغیر کسی کو اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اللہ کی محبت قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: والذین آمنوا أشد حبًّا لله (165 :2)۔ اس آیت کے مطابق، اللہ کا مومن بننے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہو جائے۔ مذکورہ قرآنی آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان اللہ سے حب شدید کرتے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ اہل ایمان کے اندر اللہ سے حب شدید ہوتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ محبت جواب (response) کے طور پر کسی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک انسان اللہ کو اپنے سب سے بڑے محسن اور منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سینے میں اللہ کے لیے محبت کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام حب شدید

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page