I think, therefore, I exist.
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲
جوڑا، یعنی فل فل مینٹ بھی اس دنیا میں موجود ہو۔ یہ ظاہر جنت کے وجود کا یقینی ثبوت ہے۔ معرفت کی قیمت ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو اس کی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ اسی طرح معرفتِ الہی کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت طالب معرفت کی خود اپنی ذات ہے۔ اس سے کم کوئی چیز معرفت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ خدا کی معرفت کسی آدمی کو ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ملتی ہے۔ اپنی نفی نہیں تو خدا کی بھی معرفت نہیں۔
اپنی نفی کا مطلب نام نہاد قسم کی پر اسرار ورزشیں نہیں۔ یہ معاملہ تمام تر غور وفکر کے ذریعہ انجام پاتا ہے، نہ کہ روحانیت کے نام پر کچھ جسمانی ورزشوں کے ذریعے۔ نفی خویش (self-negation) کیا ہے۔ نفی خویش یہ ہے کہ آدمی رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کے مقابلے میں اُس کو خود اپنا وجود سرا سر بے حقیقت نظر آنے لگے۔
نفی خویش کا مزاج دراصل عجز، تواضع ، اعتراف، محاسبہ، بے نفسی، سادگی، خدا ترسی، جہنم کا خوف اور جنت کا اشتیاق، جیسی صفات کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صفات متصوفانہ ریاضت کے ذریعے بیدار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ فکری عمل (thinking process) کے ذریعے کسی شخص کو حاصل ہوتی ہیں۔
نفی خویش کا عمل حقائق ربانی کی گہری دریافت کے بعد شروع ہوتا ہے، اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک برابر جاری رہتا ہے۔ نفی خویش دراصل اپنی حقیقت واقعی کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک معمولی حادثہ اُس کے لیے نا قابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا علم اس کو یقین کے درجے میں حاصل نہیں۔
انسان ہر لمحہ خارجی اسباب کا محتاج ہے۔ انسان کے وجود کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت اپنا فطری کام کرنا بند کر سکتا ہے۔ انسان نہ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانتا اور نہ اپنی موت کی حقیقت کو جانتا۔ انسان بہت سی چیزیں چاہتا ہے، لیکن کسی بھی چیز پر اُسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان بظاہر آزاد
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues