I think, therefore, I exist.
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱
یہی اعلیٰ معرفت ہے۔ اس قِسم کی شعوری معرفت ساری کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ یہی وہ اعلیٰ معرفت والے لوگ ہیں جو جنت الفردوس میں داخل کئے جائیں گے۔ خدا اور جنت انسان کے اندر استثنائی طور پر دو فیکلٹی (faculty) پائی جاتی ہے ۔ ایک، سوچنے کی فیکلٹی (faculty of thinking) اور دوسرے، محظوظ ہونے کی فیکلٹی (faculty of enjoyment) ۔ یہ دونوں صلاحیتیں انسان کو استثنائی طور پر دی گئی ہیں۔ اگر آدمی ان دونوں صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال کرے تو وہ ایک طرف خدا کے وجود کو دریافت کر لے گا اور دوسری طرف جنت کے وجود کو۔ سوچنا (thinking) انسان کی استثنائی صفت ہے۔ سوچنے کا ظاہر ہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات میں ایک ایسی مخلوق موجود ہے جو استثنائی طور پر تفکیر (thinking) کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ نے کہا تھا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں موجود ہوں :
I think, therefore, I exist.
اسی طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ مفکر صغیر کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں مفکر کبیر بھی موجود ہے : The existence of small thinker is a proof of the existence of the big thinker. یہی معاملہ احساسِ تلذذ (sense of pleasure) کا ہے۔ انسان اگر غور کرے تو وہ دریافت کرے گا کہ وسیع کائنات میں وہ ایک انوکھا وجود ہے جو استثنائی طور پر لذت کا شعور (sense of pleasure) رکھتا ہے۔
اس حقیقت کی دریافت اپنے آپ میں ایک اور بڑی حقیقت کی دریافت ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں جب شعورِ لذت کا وجود ہے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کے فل فل منٹ (fulfilment) کا سامان بھی ہونا چاہیے، کیوں کہ ہماری دنیا میں ہر چیز کی تکمیل کے لیے اس کا جوڑا (pair) موجود ہے۔ اس عام قانونِ فطرت کے مطابق، یقینی طور پر ایسا ہونا چاہیے کہ شعورِ لذت (sense of pleasure) کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues