معرفت کی تمثیلات
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷
لیے خدا کی معرفت کو اُس سطح پر دریافت کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں جس کو قرآن میں بصیرت (14 :75) کہا گیا ہے۔ انسان کو خدا نے قدرت (omnipotence) کے سوا اپنی تمام صفات بشری سطح پر دے دیں، تاکہ انسان خدائی صفات کو بشری تجربات کی سطح پر سمجھ سکے۔ وہ خدا کے دیکھنے کو دیکھے، وہ خدا کے سُنے کو سُنے، اور پھر کامل یقین کے درجے میں وہ خدا کا عارف بن جائے۔
معرفت کی تمثیلات
کائنات معرفت کا ایک عظیم دفتر ہے۔ کائنات کی ہر چیز معرفت کی ایک داستان ہے۔ کائنات کی ہر چیز معرفت کو مجسم کئے ہوئے ہے۔ بقیہ کائنات میں جو چیز فطرت کے قانون کے تحت ظاہر ہوئی ہے، وہی انسان کی سطح پر شعوری معرفت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ انسان اگر غور کرے تو کائنات کی ہر چیز اس کو معرفت کا سبق دیتی ہوئی نظر آئے گی۔
سورج تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ معرفت وہی معرفت ہے جو انسان کے وجود کو اندر سے باہر تک روشن کر دے۔ بہتا ہوا دریا انسان کو بتا رہا ہے کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھاری روح میں چشمہ بن کر جاری ہو جائے ۔ درخت کی ہری بھری شاخیں جب ہوا سے ہلتی ہیں تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھارے لیے ایک پر اهتزاز تجربہ (thrilling experience) بن جائے ۔ چڑیاں جب چہچاتی ہیں تو وہ انسان سے کہتی ہیں کہ خدا کے کمالات اس طرح دریافت کرو کہ تمھاری زبان پر حمد خداوندی کا نغمہ جاری ہو جائے۔ پہاڑ کی بلندی خاموش زبان میں یہ پیغام دے رہی ہے کہ خدا کو اس کی اعلیٰ عظمتوں کے ساتھ دریافت کرو، وغیرہ۔
یہی حال پوری کائنات کا ہے۔ کائنات کی ہر چیز فطرت کی زبان میں معرفت کا پیغام دے رہی ہے۔ گویا کہ کائنات معرفت کی ایک عظیم لائبریری ہے۔ جس طرح ایک اسکالر لائبریری میں داخل ہو کر کتابوں کے ذریعے معلومات اخذ کرتا ہے، اسی طرح ایک سچا انسان کائنات کی خدائی لائبریری سے معرفت کی فکری غذا (intellectual food) حاصل کرتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues