معرفت کی تمثیلات
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸
کائنات کی لائبریری انسان کے لیے معرفت کا ایک لامحدود خزانہ ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ معرفت کے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں درخت کا ہر پتہ اپنے اندر معرفت کا دفتر سموئے ہوئے ہے۔ اسی بات کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے دانش مند انسان کی نظر میں سر سبز درختوں کا ہر پتہ معرفت خداوندی کا ایک دفتر لئے ہوئے ہے:
برگ درختان سبز، در نظر ہوشیار ہر ورقی دفتری است، معرفت کردگار معرفت کا آغاز ایک عربی مثل ہے: لا أدری، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے)۔ یعنی اپنے بے خبری کو جان لینا، علم کا نقطہ آغاز (starting point) ہے۔ آدمی جب یہ جان لے کہ میں نہیں جانتا تو اس کے بعد اس کے اندر جاننے کی اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ اسپرٹ آخر کار اس کو علم تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، وہ اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا دیتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے یہ دریافت کرے کہ وہ معرفت سے خالی ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر تلاش معرفت کا جذبہ پیدا ہوگا، جو آخر کار اس کو معرفت تک پہنچادے گا۔
علم کا آغاز روح تجسس (spirit of enquiry) ہے۔ یہی اسپرٹ معرفت کے لیے بھی ضروری ہے۔ آدمی کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ معرفت کے بغیر وہ اندھیرے میں ہے۔ معرفت کے ساتھ جینا روشنی میں جینا ہے، اور معرفت کے بغیر جینا اندھیرے میں جینا۔ معرفت کے بغیر انسان کے لیے صرف ناکامی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معرفت آدمی کو برتر سطح پر جینے والا بناتی ہے۔ معرفت والا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو بے آمیز (as it is) انداز میں سمجھ سکے۔ معرفت آدمی کو فرشتوں کا ہم نشیں بناتی ہے۔ معرفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اُس کو خدا کا فیضان (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ معرفت کسی انسان کو انسان کامل بناتی ہے۔ معرفت دنیا میں ہدایت کا ذریعہ ہے اور آخرت میں جنت کا ذریعہ۔
معرفت کسی انسان کے لیے اس کے سفر حیات کا صحیح آغاز ہے۔ معرفت کسی انسان کو بے شعور
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues