ارتقا پذیر معرفت
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
انسان کی اس کمی کو پورا کرنے والی نہیں۔ جس طرح بلب پاور ہاؤس سے کنکشن کے بغیر روشن نہیں ہوتا ، اسی طرح معرفت کے بغیر کسی انسان کی زندگی ایک بے نور زندگی ہوتی ہے، کوئی اور چیز اس کی شخصیت کو منور کرنے والی نہیں۔
ارتقا پذیر معرفت
ایک مغربی مبصر نے لکھا ہے کہ ہر دن صبح کو جب سورج کی پہلی کرن تمھارے کمرے میں داخل ہو تو تم اچھل کر بستر سے اٹھو اور کہو کہ ایک اور نئی شان دار صبح : Wonderful, what a new bright sun!
خدا جو سورج کا خالق ہے، اس کی معرفت بلا شبہ سورج سے بے شمار گنا زیادہ ہے۔ جس انسان کو خدا کی دریافت ہو جائے، وہ ہر صبح و شام خدا کی نئی تجلی کو دریافت کرے گا، اس کی معرفتِ خدا ربانی تجلیات کا ایک لامتناہی سفر بن جائے گی۔
معرفت پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں ہے، معرفت درخت کی مانند ایک نمو پذیر چیز ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج بڑھتے بڑھتے ایک سر سبز درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا آغاز اقرارِ ایمان سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ یہ اقرارِ ایمان ترقی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ معرفت کا ایک ہرا بھرا درخت، بلکہ معرفت کا ایک پورا باغ بن جاتا ہے۔ معرفت کے ارتقا کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے، آدمی کی موت سے پہلے وہ ختم نہیں ہوتا۔ معرفت، خدا کے آلاء (wonders of God) کی دریافت کا نام ہے۔ خدا کے آلاء بے شمار ہیں، اس لیے خدا کی معرفت بھی ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ ہمیشہ نئی نئی دریافتوں کے ذریعہ یہ سفر مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت اس سفر کا خاتمہ نہیں۔ موت کے بعد اہل ایمان کے لیے معرفت کا سفر مزید اضافے کے ساتھ جاری رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل جنت کے لیے سب سے زیادہ لذیذ تجربہ یہی ہوگا کہ وہ معرفت کے باغوں میں جئیں، وہ معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتے رہیں ۔ یہی بلاشبہ جنت کا سب سے زیادہ لذیذ عطیہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues