معرفت کی روشنی
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴۰
یہی مثبت شخصیت ہے۔ اسی مثبت شخصیت کو خدا کی توفیق سے یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مثبت انداز میں سوچے، اُس کو معرفت کی دریافت ہوتی رہے۔ اس کے اندر عارفانہ شخصیت کی تشکیل کا عمل (process) جاری رہے معرفت کا حصول صرف مثبت شخصیت کی زمین پر ہوتا ہے، نہ کہ منفی شخصیت کی زمین پر۔
معرفت کی روشنی
آپ کے آفس میں ٹیوب لائٹ ہے، لیکن اس کا کنکشن پاور ہاؤس سے قائم نہیں ہوا ہے تو آپ کی ٹیوب لائٹ میں کوئی روشنی نہیں ہوگی، وہ بے نور پڑی رہے گی۔ لیکن جب اس کا کنکشن پاور ہاؤس سے قائم ہو تو اچانک وہ روشن ہو جاتی ہے۔
یہ مادی واقعہ اُس روحانی حقیقت کی مثال ہے جس کو معرفت (realization) کہا جاتا ہے۔ خدا اور بندے کے درمیان اگر ربط قائم نہ ہو تو اس کا وجود معرفت سے بے بہرہ رہے گا، لیکن جب خدا اور بندے کے درمیان ربط قائم ہو جائے تو اس کے بعد اچانک ایسا ہوتا ہے کہ بندے کا دل و دماغ معرفت کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔
خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کے مطابق، انسان کی حیثیت اس دنیا میں پانے والے (taker) کی ہے۔ اس کے مقابلے میں، خدا کی حیثیت دینے والے (giver) کی ہے۔ انسان ہر اعتبار سے، ایک محتاج مخلوق ہے۔ وہ اپنی کسی بھی حاجت کو خود سے پورا نہیں کر سکتا۔ یہ صرف خدا ہے جو اس کی تمام حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ انسانی شخصیت کا یہ احتیاطی پہلو انسان کو مسلسل طور پر فقدان کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے۔
یہ احساسِ فقدان انسانی شخصیت کا ایک ایسا لازمی حصہ ہے جو کبھی اُس سے جدا نہیں ہوتا۔ جو آدمی شعوری طور پر اس فقدان سے باخبر ہو جائے، وہ متلاشی (seeker) بن جاتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی ذات کے اس فقدان سے باخبر نہ ہو، وہ ہمیشہ محرومی کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ خدا کی معرفت انسان کی اِس تخلیقی کمی کا جواب ہے۔ خدا کی معرفت کے سوا کوئی اور چیز
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues