Al-Risala · June 2011 · page 43

معرفت اور دعا

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴۳

معرفت اور دعا

دعا ایک عارفانہ روح سے نکلتی ہے۔ معرفت کے بغیر دعا صرف تکرارِ الفاظ ہے۔ عارفانہ دعا ہی حقیقی معنی میں دعا ہے۔ جو دعا معرفت سے خالی ہو، اس کی حیثیت صرف ایک قسم کی لپ سروس (lip service) کی ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ دعا ایک عبادت ہے، اور حقیقی عبادت وہی ہے جس میں اللہ رب العالمین کی معرفت شامل ہو۔

دعا کی دو قسمیں ہیں۔ ایک دعا وہ ہے جو اپنی کسی حاجت کے لیے کی جائے، جس میں دعا کرنے والا اپنے کسی ذاتی مسئلے کا حوالہ دے کر اللہ سے اس کے حل کی درخواست کرے ۔ مثال کے طور پر ایک بے روزگار انسان کا روزگار حاصل کرنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا۔ یہ عام قسم کی دعا ہے۔ یہ دعا بھی ایک مطلوب دعا ہے اور اخلاص کے بقدرآدمی کو اس کا ثواب ملتا ہے۔ یہ اللہ کے اوپر منحصر ہے کہ وہ ایسی دعا کوسن کر فوراً اس کو پورا کردے یا اس کو مستقبل کے خانے میں ڈال دے۔ دوسری دعا وہ ہے جس میں دعا کرنے والا اس طرح دعا کرے کہ اس کا مسئلہ خود خدا کا مسئلہ بن جائے۔ مثلاً قدیم اسپین میں قحط کے وقت سلطان عبد الرحمن الناصر (وفات: 961 ء) کی دعا جس میں اس نے کہا تھا: أتعذب بي الرعية وأنت أرحم الراحمين، یعنی کیا تو میری وجہ سے عام لوگوں کو سزادے گا، حالاں کہ توارحم الراحمين ہے۔ (واقعہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ماہ نامہ الرسالہ، نومبر 2007، صفحہ 32)۔ اس دعا میں قحط کے زمانے میں بارش کو خود خدا کی رحمت کا تقاضا قرار دیا گیا ہے، نہ کہ صرف انسان کی ضرورت کا تقاضا۔

پہلی قسم کی دعا محض انسانی تقاضے کے تحت ظہور میں آتی ہے۔ لیکن دوسری قسم کی دعا ہمیشہ گہری معرفت کے تحت کسی انسان کے دل سے نکلتی ہے۔ دوسری قسم کی دعا ہمیشہ عارفانہ دریافت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اس قسم کی دعا ہمیشہ کسی آدمی کے دل سے اُس وقت نکلتی ہے جب کہ اس کو اللہ کی قربت کا خصوصی تجربہ ہوا ہو۔ اس قسم کی دعا کی بہت سی مثالیں حدیث میں آئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page