Al-Risala · June 2011 · page 44

سفرِ معرفت

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴

سفرِ معرفت

خدا کی معرفت کا سفر لا الہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر وہ الَّا اللہ تک پہنچتا ہے۔ آدمی کو پہلے متلاشی (seeker) بننا پڑتا ہے، اس کے بعد وہ دریافت کرنے والے (finder) کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ سفرِ معرفت کی یہی ترتیب عام انسان کے لیے بھی ہے اور یہی ترتیب پیغمبر کے لیے بھی۔ عربی زبان کا ایک مقولہ ہے: لا أدري، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) آدمی کو پہلے لا علمی کو دریافت کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد اس کے اندر تلاش کا وہ جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو روحِ تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ لاعلمی کا یہ جذبہ جتنا زیادہ شدید ہوگا، اتنی ہی زیادہ بڑی معرفت آدمی کو حاصل ہوگی۔ یہ ایک ایسی فطری حقیقت ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ معرفت کوئی ورایتی چیز نہیں جو باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے پوتے کو مل جائے، معرفت انتہائی حد تک ایک ذاتی نوعیت کی چیز ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو ملے گی تو وہ صرف ذاتی کوشش سے ملے گی، ذاتی کوشش کے بغیر ہرگز کسی کو خدا معرفت ملنے والی نہیں۔ ذاتی کوشش کے بغیر جو چیز کسی آدمی کو ملے گی، وہ ایک رسمی عقیدہ ہوگا، نہ کہ زندہ معرفت۔

معرفت کا تعلق آدمی کی پوری شخصیت سے ہے۔ معرفت ابتداءً کسی شخص کو ذہن کی سطح پر حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ فطری عمل کے تحت اس کی پوری شخصیت کے اندر سرایت کر جاتی ہے۔ معرفت کا حصول کسی آدمی کے لیے اس بات کو یقینی بنا دیتا ہے کہ اس کی پوری شخصیت معرفت کے رنگ میں رنگ جائے، اس کی زندگی کا کوئی پہلو اس کے اثر سے خالی نہ رہے۔

معرفت کا سفر دراصل دریافت (discovery) کا سفر ہے۔ یہ دریافت ساری عمر جاری رہتی ہے۔ جو آدمی یہ سمجھے کہ اس نے کامل معرفت حاصل کر لی، اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے معرفت کو سرے سے دریافت (discover) ہی نہیں کیا۔

معرفت کی قیمت

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو بتائیے کہ میں خدا کی معرفت کیسے حاصل کروں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page