مسائل دین، معرفت دین
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴۶
پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس، مسائل کا علم خود بخود کسی کو معرفت تک نہیں پہنچاتا۔ معرفت کیا ہے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو حقیقت حیات کی دریافت ہو جائے، آدمی کو اس کی داخلی تلاش کا جواب مل جائے، آدمی اپنی زندگی کی صحیح آئیڈیالوجی کو پالے۔ معرفت کو ایک لفظ میں ، داخلی انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ کسی انسان کے اندر جب یہ داخلی انقلاب آتا ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے— اس کا سوچنا ، اس کا بولنا، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک، زندگی کے بارے میں اس کے حوصلے اور آرزوئیں، معاملات میں اس کا نقطہ نظر (outlook)، کسی چیز کو لینے اور کسی چیز کو نہ لینے کے بارے میں اس کا معیار، غرض ہر چیز اللہ کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ معرفت کے حصول کے بعد آدمی کی جو شخصیت بنتی ہے، اس کے مختلف مظاہر ہیں۔ انھیں مظاہر میں سے ایک مظہر وہ ہے جس کو عبادت کہا جاتا ہے۔ مسائل کا تعلق انھیں مظاہر سے ہے۔ مظاہر اصلا داخلی تحریک کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔
مسائل کا رول یہ ہے کہ وہ ان مظاہر کے صحیح حدود کو بتائیں۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ معرفت (داخلی اسپرٹ) کے پیدا کرنے پر سب سے زیادہ زور دے۔ یہی اصلاح کا فطری طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر مسائل پر زور دیا جانے لگے تو وہ انتقال تاکید (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا۔ اس طرح کی تبدیلی سے کبھی مطلوبہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ ایسا کرنے سے مسائل پر مبنی دین بن جائے گا، حالاں کہ دین کو معرفت پر مبنی دین ہونا چاہیے۔
The Spiritual Message
ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 022-42214700, Fax: 022-28236323 Email: spiritual.msg@gmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues