مسائل دین، معرفت دین
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۴۵
میں نے پوچھا کہ آپ کی شادی ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، میرے کئی بچے بھی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ اپنے بچوں کے لیے تحفہ لاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، کبھی کبھی لاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ نہیں، آپ بار بار تحفہ لاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ روزانہ نہیں لاتا، میں نے کہا کہ یہ آدھا جھوٹ ہے۔ کوئی بھی شخص ہر روز اپنے بچوں کے لیے تحفہ نہیں لاتا۔ جو شخص اس قسم کا تحفہ لاتا ہے، وہ صرف کبھی کبھی لاتا ہے۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ معرفت کی باتیں کرتے ہیں، لیکن وہ معرفت سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ معرفت چاہتے ہیں، لیکن وہ معرفت کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اور اس دنیا میں کوئی بھی چیز قیمت ادا کیے بغیر نہیں ملتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جس چیز کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہو، اس کی وہ بات بھی نہ کرے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ معرفت کے الفاظ بولتا ہے، لیکن وہ معرفت کی اہمیت کو نہیں جانتا۔
کہا جاتا ہے کہ: العلم لا يعطيك جزءہ، حتی تعطيه كلّك (علم تم کو اپنا جز صرف اُس وقت دیتا ہے، جب کہ تم اس کو اپنا کل دے دو)۔ یہی بات معرفت کے لیے درست ہے۔ معرفت کی قیمت یہ ہے کہ آدمی اپنا سب کچھ اُس کو دے دے، وہ اُس کو اپنا واحد کنسرن بنائے، وہ معرفت کی سوچ لے کر شام کو سوئے اور معرفت کی سوچ کے ساتھ صبح کو جاگے، وہ اپنے آپ کو معرفت میں اتنا زیادہ غرق کرے کہ وہ اُس کا خواب دیکھنے لگے۔ معرفت کی قیمت کامل حوالہگی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو معرفت کے حوالے نہ کرے، معرفت کے دروازے بھی اس کے لیے نہیں کھلتے۔
مسائل دین، معرفت دین
علمِ دین کے دو پہلو ہیں— ایک ہے مسائل دین کا علم، اور دوسرا ہے معرفت دین کا علم۔ مسائل کا تعلق دین کے فارم سے ہے، اور معرفت کا تعلق دین کی اسپرٹ سے۔ دین دار بننے کے لیے دونوں ضروری ہیں۔ مسائل کا علم آدمی کو معرفت کا علم عطا نہیں کرتا، لیکن معرفت کا علم حاصل ہو جائے تو آدمی مسائل کے علم تک بھی ضرور پہنچ جائے گا۔ دین کا سفر معرفت سے شروع ہوتا ہے اور مسائل تک
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues