Al-Risala · July 2011 · page 4

تائیدِ دین: تین دور

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۴

تائیدِ دین: تین دور

ایک مفسر قرآن سے پوچھا گیا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ۔ سرگزشتِ انذار۔ یہ بات جزئی طور پر درست ہے، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سرگزشتِ دعوت ہے۔ انسانی تاریخ میں پیغمبروں کے ذریعے دعوتِ دین کا جو کام ہوا، قرآن اس کی براہِ راست یا بالواسطہ سرگزشت کا مجموعہ ہے۔ دعوت کا کام اصلاً خدائی پیغام کی پیغام رسانی کا کام ہے۔ مگر اس کام کی انجام دہی کے لیے خصوصی تائید ضروری ہے۔ اس تائید کے تین بڑے دور ہیں:

1۔ تائید دین بذریعہ معجزہ۔ 2- تائید دین بذریعہ سکینہ۔

3- تائید دین بذریعہ مذہبی آزادی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا کے جو پیغمبر آئے، اُن کی تائید اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے کی۔ ہر پیغمبر کو اپنے زمانے کے حالات کے اعتبار سے معجزہ دیا گیا۔ قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کا حسّی معجزہ نہیں دیا گیا (59 :17)، البتہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو خصوصی تائید کے طور پر وہ چیز دی گئی جس کو قرآن میں سکینہ (26 :9) کہا گیا ہے۔ سکینہ سے مراد سکون قلب (tranquility) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دعوت کے راستے میں غیر معمولی قسم کے شدائد کا سامنا کرنا پڑا۔ بھوک، بائیکاٹ، جلاوطنی، قتال، وغیرہ۔ یہ شدائد اتنے زیادہ سخت تھے کہ عام انسان اُن کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کو خصوصی طور پر سکونِ قلب عطا کیا، جس کو خدائی سکون (divine calm) کہا جا سکتا ہے۔ اسی خصوصی تائید کی بنا پر پیغمبر اور اصحاب پیغمبر اپنے مشن کی تکمیل کر سکے۔ تیسری تائید وہ ہے جو موجودہ زمانے کے اہلِ ایمان کو حاصل ہوئی ہے۔ یہ مذہبی آزادی (religious freedom) کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے جو موجودہ زمانے میں عالمی طور پر حاصل ہوا ہے۔ اب دعوت کا کام کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے بغیر آزادانہ طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page