مصادرِ شریعت
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۵
مصادرِ شریعت
فقہاء کا یہ ماننا ہے کہ اسلامی شریعت کے مصادر (sources) چار ہیں__ قرآن، سنت، اجماع، قیاس، مگر یہ درست نہیں ۔ یہ نظریہ تمام تر ذاتی قیاس کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ قرآن اور سنت کی بنیاد پر اگر مصادرِ شریعت کو متعین کیا جائے تو وہ صرف تین ہوں گے۔ پہلا دو مصدر تو واضح طور پر قرآن اور سنت ہے۔ جہاں تک تیسرے مصدر کا تعلق ہے، اس کے لیے قرآن میں استنباط (83:4) اور حدیث میں اجتہاد (صحیح البخاری) کا لفظ آیا ہے۔ نص کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اصلاً اسلامی شریعت کے یہی تین مصادر ہیں۔ ان کے سوا کسی چوتھے مصدر کا اضافہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بدعت ہے، اس کی کوئی منصوص بنیاد نہیں۔
عام طور پر فقہاء نے اجماع (consensus) کو شریعت کا ایک مستقل مصدر قرار دیا ہے، مگر یہ یقینی طور پر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ شریعت کا مستقل مصدر صرف کوئی نص قطعی ہو سکتا ہے۔ نص قطعی کی غیر موجودگی میں کسی چیز کو شریعت کا مستقل مصدر قرار دینا، یقینی طور پر ایک بے بنیاد بات ہے۔ اجماع کی بلاشبہ ایک اہمیت ہے، لیکن وہ اہمیت صرف یہ ہے کہ کسی خاص موقع پر اجماع کسی پیش آمدہ مسئلے کا ایک عملی حل ہوتا ہے۔ یہ حل یقینی طور پر ایک وقتی حل ہوتا ہے، نہ کہ شریعت کا ابدی مصدر۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ ضرورت ہے کہ اہل علم اس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور پورے معاملے پر نظرثانی کرتے ہوئے دوبارہ اس مسئلے کی ایسی تشریح کریں جو ایک طرف قرآن وسنت کے نصوص کے مطابق ہو۔ اور دوسری طرف اُس میں دورِ جدید کے بدلے ہوئے حالات میں مسلمانوں کے لیے قابلِ عمل رہنمائی موجود ہو۔ آج کی ایک ضرورت یہ ہے کہ اسلام کے تعلق (relevance) کو جدید دور کی نسبت سے ثابت کیا جائے، اور یہ کام مذکورہ معاملے کی تشریح کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے بہت سے فکری مسائل کا حل اس معاملے کی تشریح نو سے منسلک ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues