Al-Risala · January 2011 · page 29

تعارف قرآن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

اپنا تزکیہ کریں، جو مزکّیٰ انسان بن کر اگلی دنیا میں داخل ہوں (76:20)۔ تزکیہ کے معنی ہیں۔ تطهیر (purification)، یعنی اپنی شخصیت کو نامطلوب چیزوں سے پاک کرنا۔ شخصیت کو پاک کرنے کا یہ عمل ایک مسلسل عمل رہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک مومنِ قرآن کے اندر یہ عمل اس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پیدائشی طور پر ہر انسان مسٹر نیچر ہوتا ہے، مگر دنیا کی زندگی میں روزانہ ایسے تجربات ہوتے ہیں جو اس کی فطری شخصیت کے اوپر منفی دھبے ڈالتے رہتے ہیں، غصہ اور نفرت اور حسد اور لالچ اور تعصب اور کبر اور بے اعترافی اور انتقام، یہ سب یہی منفی دھبے ہیں، جو انسان کی فطری شخصیت کو آلودہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ بے لاگ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنا تزکیہ کرتا رہے۔ وہ آلودہ شخصیت کو فطری شخصیت بناتا ہے۔ ہر آدمی کا ماحول اُس کو ایک کنڈیشنڈ (conditioned) انسان بنا دیتا ہے۔ اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے دوبارہ اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنائے۔ اس مسٹر نیچر کا قرآنی نام ربانی انسان ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جو موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کریں (20: 76)۔ اس تزکیہ کے بغیر کوئی عورت یا مرد جنت میں داخل ہونے والے نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page