تعارف قرآن
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸
آزادی دی ہے، اس لیے اُس کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے دوسرے شخص کو نقصان پہنچائے۔ یہ صورتِ حال خدا کی قائم کردہ ہے، اس لیے وہ قیامت سے پہلے ختم ہونے والی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس صورتِ حال کو فطری صورتِ حال سمجھے اور ردِ عمل کا اظہار نہ کرے، بلکہ وہ اس کو اوائڈ کرتے ہوئے اپنی مطلوب زندگی گزارے۔ اس صورتِ حال کو بدلنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں، اس لیے اس دنیا میں انسان کے لیے اعراض (avoidance) کے سوا کوئی اور چوائس بھی نہیں۔ اس سماجی صورتِ حال کی آخری صورت وہ ہے جس کو دشمنی کہا جاتا ہے۔ دشمنی کی صورتِ حال کے مقابلے کے لیے بھی قرآن اسی مثبت رویے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ’’اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا‘‘ (34: 41) قرآن کی اس آیت کے مطابق، دشمنی کوئی ابدی چیز نہیں۔ ہر دشمن آپ کا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اس لیے مومنینِ قرآن کو چاہیے کہ وہ اس امکان کو واقعہ بنائیں، وہ اپنے حسنِ عمل سے، دشمن کو دوستی میں تبدیل کر دیں۔ سماج کا ایک ظاہرہ یہ بھی ہے کہ اُس کے اندر ہمیشہ مختلف افکار و نظریات کے لوگ رہتے ہیں، ایسے لوگ جن کا کلچر اور مذہب ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایسے سماج میں پر امن طور پر رہنے کا فارمولا کیا ہے۔ ایسے سماج کے لیے پرامن فارمولا قرآن میں اس طرح دیا گیا ہے — تمھارے لیے تمھارا دین ہے، اور میرے لیے میرا دین (6: 109)۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، کثیر مذہبی سماج (multi-religious society) میں پُر امن طور پر رہنے کا فارمولا یہ ہے کہ — ایک کو اپناؤ اور دوسرے کا احترام کرو: Follow one, and respect all. قرآن کا مطلوب انسان ربانی انسان (79: 3) ہے، یعنی وہ انسان جو اس دنیا میں رب والا انسان بنے۔ جو خدا رخی زندگی گزارے۔ ربانی انسان بننے کے اسی پر اس کو قرآن میں تزکیہ (2: 129) کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، جنت اُنھیں افراد کے لیے ہے جو اس دنیا میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues