Al-Risala · July 2011 · page 11

عروج وزوال کا قانون

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱

شعوری بیداری کے بغیر عملی پروگرام کا نفاذ کبھی نتیجہ خیز (result-oriented) نہیں ہوسکتا۔ شعوری بیداری کیا ہے۔ شعوری بیداری کا مطلب ہے امت کے افراد کے لیے اسلام کو اُن کی ری ڈسکوری (re-discovery) بنانا، اُن کے اندر فکری انقلاب لانا، اُن کے سامنے اسلام کی تعلیمات کو اس طرح پیش کرنا جو اُن کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، جو اُن کی بے حسی (قساوت) کو دوبارہ حساسیت میں تبدیل کردے۔

مثال کے طور پر مسلمانوں کی موجودہ نسلوں میں عام طور پر زوال کی وہی حالت طاری ہو چکی ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب بنیادی طور پر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ عقل (reason) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے کا انسان کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ اس کو ریزن آؤٹ (reason out) کر سکے۔ اس کے بغیر وہ اُس بات کا عصری ریلیونس (contemporary relevance) دریافت نہیں کر پاتا، اس لیے وہ زندہ شعور کے ساتھ اُس کو اخذ (grasp) بھی نہیں کر پاتا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جو کتا بیں لکھی گئیں، وہ سب روایتی اسلوب میں تھیں، جب کہ موجودہ ذہن سائنٹفک ذہن ہے۔ اس بنا پر قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتا۔ ایسا لٹریچر جدید ذہن کو ایک غیر متعلق لٹریچر نظر آتا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے فکری زوال کا اصل سبب یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلم دنیا میں سیکڑوں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، لیکن وہ زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ امت نہ بنا سکیں ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان تحریکوں نے مسلمانوں کو روایتی اسلوب میں خطاب کیا، وہ عصری اسلوب میں اُن کو خطاب نہ کر سکیں۔ انھوں نے ذہنی انقلاب کے بغیر امت کے سامنے عملی پروگرام پیش کر دیا۔ اس قسم کا طریق کار یقینی طور پر بے نتیجہ ہونے والا تھا، کیوں کہ یہ گھوڑے کے آگے گاڑی رکھنا (putting the cart before the horse) کا معاملہ تھا۔ فطری قانون کے مطابق ، اس طریق کار کے لیے یہی مقدر تھا کہ وہ عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page