Al-Risala · July 2011 · page 10

عروج وزوال کا قانون

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

عروج وزوال کا قانون

قرآن کی سورہ الحدید میں امت کے عروج وزوال کا قانون بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دو متعلق آیتوں کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے اور اُس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اُس کے مردہ ہونے کے بعد۔ ہم نے تمھارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو۔ (17-16 :57)

اِن آیات میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے مفسرین میں سے غالباً کوئی بھی اس مفہوم کو واضح نہ کر سکا۔ مثال کے طور پر سید قطب (وفات: 1966) نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ولا بدّ من اليقظة الدائمة كي لا يصيبه التبلّد والقساوة (في ظلال القرآن، جلد 6، صفحہ 3489) یعنی لازم ہے کہ قلب دائمی طور پر بیدار رہے، تا کہ اس کے اندر سستی اور بے حسی نہ پیدا ہو۔ یہ تفسیر بلا شبہ خلافِ فطرت ہے۔ اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ امت پر دورِ زوال نہ آنے پائے، حالاں کہ دورِ زوال کا آنا ایک فطری تقاضا ہے، کوئی بھی امت اس سے مستثنیٰ نہیں، نہ یہود اور نہ مسلمان۔ اِن آیتوں میں دراصل فطرت کے اُس قانون کو بتایا گیا ہے جس کو ڈی جنریشن (degeneration) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں قساوت کی وہی کمزوری پوری طرح آ جائے گی جو اس سے پہلے یہود کے اندر آ چکی ہے۔ اس کے بعد تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب ایسا ہو تو علماء امت کو کیا کرنا چاہیے۔ ان کو وہی کرنا چاہیے جو کسان اپنی بنجر زمین پر کرتا ہے۔ وہ پہلے زمین کو تیار کرتا ہے، اس کے بعد وہ اس میں بیج ڈالتا ہے۔ اسی طرح علماء اور مصلحین کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ پہلے امت کے اندر شعوری بیداری لائیں اور اس کے بعد عملی پروگرام کا نفاذ کریں۔ زوال کے بعد یہی صحیح نقطہ آغاز (starting point) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page