تاریخ کے فیصلے کو بدلنا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
توڑ دیا اور دوبارہ کعبہ کو اس کی سابق بنیاد پر تعمیر کر دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس اصول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اس لیے وہ بار بار اس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔
بیسویں صدی کے ربع اول میں خلافت تحریک ، بیسویں صدی کے نصف ثانی میں فلسطینی تحریک، بیسویں صدی کے نصف آخر میں کشمیری تحریک اور اس قسم کی دوسری تحریکیں اسی کا ثبوت ہیں۔ ان تحریکوں کے لیڈروں نے تاریخ کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا فیصلہ نہیں بدلا، البتہ نادانی کی اس سیاست نے مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔ وہ لمحہ جب کہ تاریخ کا فیصلہ ہو رہا ہو، اُس وقت آپ اپنی دانش مندانہ پالیسی کے ذریعے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو اُس کے بعد فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرنا عملاً ہے پرامدا ر ہورہے ہیں، باب ماریہ دلاسے ، مدیت کو خودکشی کے سوا اور کچھ نہیں۔
جرم اور گناہ گار افراد کے نام اور نام الہ حال اعلانیہ طور پر جاری رکھا گیا جن اداروں یا افراد کے نام ماہ نامہ الرسالہ اعزازی طور پر جاری کیا گیا ہے ، وہ صرف ایک سال کے لئے ہے۔ جو حضرات مسلسل طور پر الرسالہ کو پڑھنا چاہتے ہیں ، وہ دفتر کو زِرِ تعاون کے ساتھ اپنا خریداری نمبر (US No.) یا اپنا مکمل پتہ بھیج کر دوبارہ اپنے پتے پر الرسالہ سے ملاپ کا پتہ یا پے آر نمبر (P.O No.) پر اپنا پتہ درج کر کے جاری فرما سکتے ہیں ۔
جو حضرات "القُرآن مشن " میں شامل ہو کر ہمارا تعاون کرنا چاہتے ہیں، اُن سے گزارش سے جو حضرات "القرآن سن" میں شامل ہو کر ہمارا تعاون کرنا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ القرآن مشن کے دفتر سے رابطہ کر کے اپنا مکمل پتہ، ٹیلی فون نمبر اور ای میل روانہ کریں، نیز اس بات کو واضح کریں کہ آپ القرآن مشن میں شامل ہو کر کس طرح اس کے ساتھ اپنا تعاون فرمائیں گے:
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues