Al-Risala · July 2011 · page 14

تمثیلی اسلوب

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴

تمثیلی اسلوب

مولانا جلال الدین رومی (وفات: 1273ء) نے اپنی مشہور’’مثنوی‘‘ جس زمانے میں لکھی، وہ تمثیلی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں عام طور پر یہی اسلوب رائج تھا، یعنی اپنی بات کو فرضی مثالوں اور فرضی کہانیوں کی زبان میں بیان کرنا۔ اسی زمانی اثر کے تحت، مولانا رومی نے اپنی مثنوی تمثیلی اسلوب کے تحت لکھی۔ تمثیلی ادب کا یہ اسلوب نیوٹن (وفات: 1727ء) کے ظہور کے بعد ختم ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں تمثیل کا اسلوب ایک غیر علمی اسلوب سمجھا جاتا ہے، علمی اعتبار سے وہ کوئی معتبر اسلوب نہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ وہ عہد کی اس تبدیلی سے بے بہرہ رہے اور اس بنا پر قدیم زمانے میں مثنوی مولانا روم جس طرح اُن کے یہاں عمومی طور پر رائج تھی، اُسی طرح بعد کے زمانے میں بھی وہ ان کے درمیان رائج رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں جدید علمی اسلوب فروغ نہ پا سکا۔ چناں چہ آج بھی اُن کی تقریر و تحریر میں مثنوی مولانا روم کے اشعار اس طرح نقل کئے جاتے ہیں جیسے کہ وہ ایک مستند علمی بیان کی حیثیت رکھتے ہوں۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اسلوب کلام کا براہ راست تعلق متکلم کے طرزِ فکر سے ہے۔ متکلم اگر فرضی کہانیوں اور غیر واقعی مثالوں کے ذریعے اپنی بات کہنے کا عادی ہو تو اس کی سوچ بھی اسی قسم کی غیر واقعی سوچ بن جائے گی۔ وہ مفروضات اور یقینیات میں فرق نہ کر سکے گا۔ وہ خیالی تمثیلات کی بنیاد پر ایک بات کہے گا اور یہ سمجھے گا کہ اُس نے جو بات کہی ہے، وہ حقائق کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کے اندر مبنی بر حقیقت تفکیر (realistic approach) کا ارتقا نہ ہو سکے گا۔ وہ شاعرانہ تخیل اور مبنی بر حقیقت تفکیر کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔

اس طرزِ فکر کا مزید نقصان یہ ہوگا کہ ایسا آدمی زندگی کے معاملات میں حقیقت پسندانہ رائے قائم نہ کر سکے گا۔ اس کی منصوبہ بندی جذبات پر مبنی ہوگی، نہ کہ عقل و خرد کی بنیاد پر۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کا کیس فکر اور عمل دونوں اعتبار سے صرف تباہی کا کیس بن کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page