تنقید کی دو قسمیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵
تنقید کی دو قسمیں
تنقید (criticism) کا ایک طریقہ یہ ہے کہ زیرِ تنقید شخص نے جو بات کہی ہے، اس کو اچھی طرح سمجھا جائے اور پھر اس کے اصل نقطۂ نظر کو لے کر اس پر تنقید کی جائے۔ یہ تنقید کا صحیح اور علمی طریقہ ہے۔ تنقید کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زیرِ تنقید شخص نے جو بات کہی ہے، اُس سے خود ساختہ طور پر ایک مفہوم نکالا جائے اور اسی خود ساختہ مفہوم کو زیرِ تنقید شخص کی طرف منسوب کر کے اُس پر تنقید کی جائے۔ یہ دوسرا طریقہ تنقید کا غلط اور غیر علمی طریقہ ہے۔
موجودہ زمانے میں، تنقید کا یہ دوسرا طریقہ بہت زیادہ عام ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تنقید کو حقوقِ انسانی کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ تنقید کرنا، اُن کا ذاتی حق ہے۔ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ تنقید بلاشبہ ہر انسان کا حق ہے، لیکن یہ کسی بھی شخص کا حق نہیں کہ وہ زیرِ تنقید شخص کے کلام سے ایک خود ساختہ مفہوم نکالے اور اس خود ساختہ مفہوم کو زیرِ تنقید شخص کی طرف منسوب کر کے وہ اس پر پُر شور تنقید شروع کر دے۔
تنقید دراصل علمی تجزیہ (scientific analysis) کا دوسرا نام ہے۔ تنقید حقیقتاً وہی ہے جو علمی تجزیہ کے اسلوب میں کی جائے۔ جو تنقید علمی تجزیہ سے خالی ہو، وہ بلاشبہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی تنقید علمی اعتبار سے بے بنیاد ہے، اور شرعی اعتبار سے بلاشبہ ایسی تنقید ایک سنگین گناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
علمی تجزیہ طرفین کے لیے مفید ہے، ناقد کے لیے بھی اور زیرِ تنقید شخص کے لیے بھی۔ علمی تنقید کے ذریعے ناقد کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیرِ بحث موضوع کا از سرِ نو مطالعہ کرے۔ اسی طرح زیرِ تنقید شخص کو اِس سے یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی رائے کا از سرِ نو جائزہ لے۔ اس کے برعکس، غیر علمی تنقید اس طرح کے کسی مثبت فائدے سے مکمل طور پر خالی ہوتی ہے۔ علمی تنقید ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے، جب کہ غیر علمی تنقید صرف آدمی کے ذہنی انحطاط کا ذریعہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues