سوشل انارکی
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱
صورت میں دیا گیا ہے، تم اس میں فساد برپا نہ کرنا: ولا تفسدوا في الأرض بعد إصلاحها (85:7)۔ اکیسویں صدی میں جو بگاڑ سامنے آیا ہے، اس کا سبب یہی ہے کہ انسان نے اپنی حد سے تجاوز کیا اور اس کے نتیجہ میں اس نے اصلاح یافتہ زمین کو فساد میں مبتلا کر دیا۔ ماحولیات کا مسئلہ موجودہ زمانے میں ماحولیات (ecology) کا جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ براہِ راست طور پر اسی ’’فساد‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمین کو انسان کے لیے صرف عارضی قیام گاہ کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اس لیے یہاں جو بھی وسائل ہیں، وہ سب محدود مقدار میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں جب جدید ٹیکنالوجی آئی تو انسان نے ان وسائل کو لامحدود طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو زیادہ اخراج کاربن (excess carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مختلف سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً گلوبل وارمنگ، ائر پلوشن، واٹر پلوشن، وغیرہ۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان اپنے لائف اسٹائل کو بدلے۔ وہ فطرت کے نقشے کے مطابق، سادہ لائف اسٹائل کو اختیار کرے۔
سوشل انارکی
سوشل انارکی کیا ہے۔ وہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ انسان اپنی آزادی کو اگر محدود طور پر استعمال کرے تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی، لیکن اگر وہ اپنی آزادی کو لامحدود طور پر استعمال کرنے لگے تو اس کے بعد لازماً وہی چیز پیدا ہوگی جس کو سوشل انارکی کہا جاتا ہے۔ امریکا سے ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر بی ایف اسکنر (B F Skinner) ہیں۔ کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: (Freedom and Dignity)۔ اس کتاب میں مصنف نے لامحدود آزادی کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ـــ ہم لامحدود آزادی کا تحمّل نہیں کر سکتے: We can't afford unlimited freedom. ایک واقعہ اس معاملے کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے جب امریکا کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues