Your freedom ends, where my nose begins.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲
آزادی ملی تو ایک امریکی شخص بہت خوش ہوا۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر قریب کی ایک سڑک پر چل رہا تھا۔ خوشی میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت زیادہ ہلا رہا تھا۔ اس دوران وہاں سے ایک اور امریکی شخص گزرا۔ اُس وقت یہ ہوا کہ پہلے شخص کا ہاتھ دوسرے شخص کی ناک پر لگ گیا۔ دوسرے شخص نے کہا۔ یہ تم نے کیا کیا، تم نے کیوں میری ناک پر مارا۔ پہلے شخص نے جواب دیا کہ امریکہ آج آزاد ہے، میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ دوسرے شخص نے کہا کہ ـــ تمھاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے:
Your freedom ends, where my nose begins.
یہ فطرت کا ایک اصول ہے۔ یہاں انسان کو آزادی حاصل ہے، لیکن یہ آزادی ایک محدود آزادی ہے۔ انسان اگر اپنی آزادی کو لامحدود طور پر استعمال کرنے لگے تو اس کا نتیجہ لازماً اجتماعی بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ جدید انسان کی غلطی یہ ہے کہ اس نے آزادی کو عظیم ترین خیر (summum bonum) سمجھ لیا۔ اس کے نتیجے میں کامل آزادی (total freedom) کا نظریہ پیدا ہوا۔ یہی وہ نظریہ ہے جو موجودہ سوشل انارکی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان دوبارہ لامحدود آزادی سے محدود آزادی کی طرف واپس جائے ۔ اس کے سوا اس مسئلے کا دوسرا اور کوئی حل موجودنہیں۔ مولاناوحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)
Mahatwana, Phulwarisharif, Patna - 801505 Mob. 9308477841, 0612-3255435 Kahaniyan Quran Se سے کہانیاں قرآن سے Zee Salaam Saturday 2.00 pm
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues