Hypothesis, Observation, Verification
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶
یہاں یہ سوال ہے کہ وجدان کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کو کیوں کر مستند علم سمجھا جائے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جس آدمی کے اوپر وجدان کا یہ دروازہ کھل جائے، وہ اپنی داخلی بصیرت کے تحت ایسی باتوں کو جاننے لگتا ہے جس کا علم اُس کو پہلے حاصل نہ تھا۔ بعد کو خارجی حقائق بالواسطہ طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُس کو اپنے وجدان کے ذریعے جو علم حاصل ہوا تھا، وہ ایک حقیقی علم تھا، وہ کوئی فرضی واہمہ نہ تھا۔ راقم الحروف کو ذاتی طور پر بار بار اس کا تجربہ ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنسی طریقہ (scientific method) کو مستند طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی چیز کو دریافت (discover) کرنے کے لیے سائنس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ — پہلے مفروضہ، اس کے بعد مشاہدہ، اور پھر تصدیق:
Hypothesis, Observation, Verification
اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ایک سوچنے والے دماغ میں ایک تصوراتی مفروضہ آتا ہے۔ اس کے بعد وہ متعلق شواہد کی تحقیق کرتا ہے۔ اگر یہ شواہد اس کے مفروضہ کی تصدیق کریں تو اس کے بعد اس کا مفروضہ ایک مسلمہ حقیقت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ وجدان کے ذریعے دریافت ہونے والی حقیقت کا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے ایک سچے متلاشی (true seeker) کے دماغ میں ایک تصور آتا ہے۔ اس کے بعد وہ متعلقہ حوالوں (relevant reference) کی روشنی میں اس کی مزید تحقیق کرتا ہے، یہاں تک کہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کا مفروضہ درست تھا۔
راقم الحروف کو اپنی تلاش کے دوران بار بار ایسے تجربات پیش آئے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ صوفیا کے حلقے میں ایک قول کا حدیث قدسی کی حیثیت سے بہت چرچا ہے۔ وہ قول یہ ہے: كُنتُ كنزاً مخفيا، فأحببتُ أن أُعرف، فخلقتُ خلقاً، فبي عرفوني (كشف الخفاء، 2/1011) یعنی میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔
میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues