Al-Risala · July 2011 · page 27

Hypothesis, Observation, Verification

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اس لیے علما عام طور پر اس کو مستند نہیں مانتے۔ تاہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چناں چہ میں اس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا لیعبدون (51:56)- مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اس آیت میں ’’عبادت‘‘ سے مراد معرفت لیا ہے۔ انھوں نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا لیعرفون۔ اس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ اس کے بعد میں نے مزید غور کیا تو میں اس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ قدسی کی زبان میں بیان کر دیا۔ اس قول کے الفاظ اگر بدل دئے جائیں اور اس کو ایک تفسیری قول کی شکل دے دی جائے تو وہ اس طرح ہوگا: کان الله كنزاً مخفيا، فأحب أن يُعرف، فخلق الخلق۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے متلاشی کا وجدان، عقلی بنیاد سے بھی زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ عقلی بنیاد آدمی کو صرف فنی سطح کے ظاہری علم تک پہنچاتی ہے، لیکن ایک سچے متلاشی کا وجدان مزید اضافے کے ساتھ حقیقت شناسی (realization of truth) کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ سطح ہے جب کہ ایک ترقی یافتہ ذہن ادراکِ حقیقت کی ایک ایسی سطح پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں سے وہ حقیقت کو براہِ راست دیکھ سکے، وہ اس درجے تک پہنچ جائے کہ وہ حقیقت کو کسی دلیل کے بغیر پہچاننے لگے۔ اس معاملے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وجدان کی سطح پر جو یقین حاصل ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی غیر حقیقی چیز کبھی اضافہ پذیر نہیں ہوتی۔ واہمہ اور حقیقی وجدان میں یہ فرق ہے کہ واہمہ ہمیشہ بے ثبات ہوتا ہے۔ وہ صرف وقتی طور پر آدمی کو متاثر کرتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی شخص کی رسائی حقیقی وجدان تک ہو جائے تو اُس پر کبھی زوال نہیں آتا۔ حقیقی وجدان ہمیشہ ترقی کرتا رہتا ہے، اس کے یقین کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page