Al-Risala · July 2011 · page 28

Hypothesis, Observation, Verification

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸

واہمہ ایک مجہول چیز ہے، اس کی کوئی شعوری بنیاد نہیں۔ اس کے برعکس، وجدان پوری طرح شعور پر مبنی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجدان خود شعور کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ وہ شعور کی تکمیل ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو اس کا داخلی احساس خود بتادے گا کہ کون سی بات صرف واہمہ ہے اور کون سی بات وجدانی علم سے تعلق رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل اور وجدان دونوں تلاش کی منزلیں ہیں۔ آدمی کی عقل اُس کو وجدان تک پہنچاتی ہے اور وجدان اس کو حقیقت کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچادیتا ہے۔ جو آدمی اس اعلیٰ مرتبے تک پہنچتا ہے، اس کے لیے عقل اور وجدان کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی مکمل طور پر وجدان ہوتی ہے، اور اس کا وجدان مکمل طور پر عقل ۔ یہی وہ مقام ہے جس کو معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ کہا جاتا ہے۔ تاہم عقلی دریافت اور وجدانی دریافت میں یہ فرق ہے کہ عقلی دریافت ایک موضوعی دریافت (objective discovery) ہے۔ اس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت کی حیثیت ایک داخلی دریافت (subjective discovery) کی ہے۔ اس بنا پر دونوں دریافتوں کے درمیان بظاہر یہ فرق باقی رہتا ہے کہ عقلی دریافت ایک قابل مظاہرہ (demonstrable) دریافت ہے۔ اس کے مقابلے میں، وجدانی دریافت خارجی طور پر قابل مظاہرہ نہیں۔ مگر یہ فرق کوئی حتمی فرق نہیں۔ جہاں تک صاحب وجدان کا معاملہ ہے، اس کے اپنے لیے دونوں قسم کی دریافتیں یکساں طور پر قابل یقین ہوتی ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ایک چیز کو وہ پیشانی کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور دوسری چیز کا مشاہدہ وہ دماغ کی آنکھ سے کرتا ہے۔ تاہم یہ فرق آخری فرق نہیں۔ ایک شخص جس کو حقیقی معنوں میں وجدانی دریافت ہو، وہ اس کے نتیجے میں عام انسان سے واضح طور پر مختلف (different) بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا بولنا، اس کا سلوک، اس کے اخلاق، اس کے آداب و اطوار، ہر چیز دوسرے انسانوں سے اتنا زیادہ مختلف ہو جاتے ہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک مختلف انسان (man with a difference) بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت کا یہ فرق اہل نظر کے لیے وہی درجہ رکھتا ہے جس کو عقل اور منطق کی زبان میں دلیل کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page