Al-Risala · July 2011 · page 32

اکّالُ الرجال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲

اکّالُ الرجال

خواجہ الطاف حسین حالی (وفات: 1914) نے اپنی ایک نظم میں ہندوستان کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے: تو نے اے غارت گر اقوام واکّال الامم اکّال کا لفظ آکل کا مبالغہ ہے۔ اکّال کے معنی ہیں۔ بہت زیادہ کھانے والا (glutton)۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے کا مسلم معاشرہ ایک ایسا معاشرہ بن چکا ہے جس کو اکّال الرجال کہنا چاہیے، یعنی شخصیتوں کو کھا جانے والا، اعلیٰ قابلیت کے افراد کو تباہ کردینے والا۔ پچھلے دوسوسال کا زمانہ ایک بالکل نیا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں مسلم شخصیتوں کے لیے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ جدید دور کو سمجھیں اور جدید تقاضے کے مطابق، لوگوں کے سامنے اسلام کا تعارف پیش کریں۔ مگر پورے دو سو سال میں کوئی بھی مسلمان نظر نہیں آتا جس نے دورِ جدید کی نسبت سے حقیقی معنوں میں کوئی قابلِ ذکر کام کیا ہو۔ یہ بلاشبہ مسلم تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ موجودہ زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اندر نہایت اعلیٰ صلاحیت والے افراد پیدا کئے، عربوں میں بھی اور غیر عربوں میں بھی۔ مگر یہ افراد دور جدید کا مطلوب کام نہ کرسکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا مسلم معاشرہ پوری طرح زوال کا شکار ہو چکا تھا۔ اس زوال یافتہ معاشرے میں جو افراد پیدا ہوئے، وہ اس فارسی شعر کا مصداق بن گئے کہ جو چیز نمک کی کان میں جاتی ہے، وہ خود بھی نمک بن جاتی ہے: ہر چیز کہ در کان نمک رفت، نمک شد ڈاکٹر اقبال نے شاعری کو چھوڑ کر علم کے میدان میں کام کرنا چاہا تھا، مگر اُن کے احباب نے ان کو شاعری میں مشغول کردیا۔ یہی دورِ جدید میں تمام باصلاحیت افراد کا حال ہوا ہے۔ کوئی معاشرہ کے اثر سے ادب اور شاعری میں مشغول ہو گیا، کوئی نام نہاد ملی مسائل میں الجھ گیا، کوئی مسلمانوں کی سیاسی رومانیت کا شکار ہو گیا، کوئی مسلمانوں کی فخر پسندانہ نفسیات کو غذا دینے لگا۔ غرض ہر ایک زوال یافتہ مسلم معاشرے کا ایک فرد بن گیا، بجائے اس کے کہ وہ مسلمانوں کو اس زوال سے نکالنے کی کوئی حقیقی کوشش کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page