اکّالُ الرجال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۳
ایک خط
برادر محترم محمد حسن جوہر صاحب السلام علیکم ورحمة الله آپ کے خط کے ساتھ آپ کی کتاب ’’خطابِ نو‘‘ (صفحات 264) موصول ہوئی۔ اس کتاب کو دیکھنے کے بعد میرا جو پہلا تاثر تھا، وہ یہ تھا کہ ــــ یہ کتاب ایک ایسے مصنف کا تعارف پیش کرتی ہے جو قلبی درد اور ذہنی سنجیدگی کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔ کتاب کا یہ پہلو بلاشبہ کتاب کے اصل موضوع سے بھی زیادہ اہم ہے۔
آپ نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ: ’’اگر اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کر بلا کے بعد کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمان بیدار ہوتا ہے کسی بڑی ٹریجڈی کے بعد، تو کیا ایسا اب بھی ہو نہیں چکا‘‘۔ آپ کا یہ جملہ در اصل فطرت کے ایک قانون کو بیان کرتا ہے۔ موجودہ دنیا کو پیدا کرنے والے نے اُس کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے، اُس کو مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975) نے بجاطور پر چیلنج۔ رسپانس میکانزم (challenge-response mechanism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق ، اگر قوم باشعور ہو تو وہ پیش آمدہ چیلنج کا مثبت جواب (positive response) دیتی ہے۔ اس طرح اس کی تخلیقیت (creativity) میں اضافہ ہوتا ہے۔ چیلنج اُس کے لیے ترقی کا زینہ (stepping stone) بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جس قوم کے رہنماؤں نے اس کو بے شعور بنا رکھا ہو، وہ پیش آمدہ چیلنج کا صرف منفی جواب (negative response) دے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خدا کی اس دنیا میں صرف ایک احتجاجی گروپ (protestant group) بن کر رہ جائے۔ ایسی قوم خدا کے لیے بھی غیر مطلوب ہے، اور انسانوں کے لیے بھی غیر مطلوب۔ نئی دہلی، 25 مارچ 2011 دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues