Al-Risala · January 2011 · page 33

مال کی حقیقت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۳

مال کی حقیقت

کہا جاتا ہے کہ بل گیٹس (Bill Gates) دورِ جدید کا سب سے بڑا دولت مند آدمی ہے۔ اس وقت اس کی عمر 54 سال ہے اور وہ 34 بلین اسٹرلنگ پاؤنڈ کا مالک ہے۔ مگر وہ اپنی دولت اپنے تین بچوں کو نہیں دینا چاہتا، کیوں کہ اس کو اندیشہ ہے کہ اس کے بچے اتنی بڑی دولت پا کر بگڑ جائیں گے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا، 21 ستمبر 2010 کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنی دولت سے ایک خاندانی مملکت قائم کریں۔ وہ اپنی دولت کو اپنے بچوں کے لیے نہیں چھوڑیں گے :

He is not interested in using his billions to LAUNCH a dynasty and would not leave his fortune to his children. (The Times of India, New Delhi, p. 20)

جس آدمی کے پاس مال نہ ہو، وہ مال کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ وہ اپنا پورا وقت اور اپنی پوری توانائی مال کے حصول میں لگا دیتا ہے۔ لیکن جب وہ مال کو پا لیتا ہے تو اس کے بعد وہ دریافت کرتا ہے کہ مال بہت سے ناقابل حل مسائل لے کر آیا ہے۔ مال نے اس کو خوشی نہیں دی، البتہ اس نے اس کی زندگی میں بہت سے نئے مسائل کا اضافہ کر دیا۔ مال، ملنے سے پہلے ایک خوش نما گول (goal) ہے، لیکن مال، ملنے کے بعد صرف مسائل کا مجموعہ بن جاتا ہے۔

قرآن میں مال کو انسان کے لیے قیام (4:4) کا ذریعہ بتایا گیا ہے، یعنی مال انسان کی مادی ضرورتیں پورا کرنے کے لیے ہے، مال انسان کے لیے مقصدِ حیات نہیں۔ مال کی اس حقیقت کو جو انسان مال کے حصول سے پہلے جان لے، وہ ایک دانش مند انسان ہے، اور جو آدمی مال کی اس حقیقت کو مال کے حصول کے بعد جانے، وہ بلاشبہ ایک غیر دانش مند انسان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اس معاملے میں وہ دوسروں کے تجربے سے سبق لے۔ وہ اس کا انتظار نہ کرے کہ یہ تجربہ خود اس کے اوپر گزرے، اس کے بعد وہ اس سے سبق حاصل کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page