Al-Risala · August 2011 · page 5

توحید اور امن

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۵

اپنے بھائی ہابیل سے غصہ ہو گیا اور بے رحمی کے ساتھ اس کو مار ڈالا۔

ابتدائی دور کے اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک قانون مقرر فرمایا۔ اس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا، وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً۔ ولقد جائتهم رسلنا بالبينات ثم إن كثيراً منهم بعد ذلك في الأرض لمسرفون (5:32) یعنی اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا اُس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا، اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبران کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے، اس کے باوجود اُن میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیاد تیاں کرتے ہیں۔

آدم اور حوا سے انسان کی نسل شروع ہوئی۔ توالد و تناسل کے نتیجے میں انسان کی آبادی بڑھتی رہی۔ دھیرے دھیرے انسان زمین کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے انبیاء کے ذریعے ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر مقام پر اور ہر گروہ میں مسلسل انبیاء آتے رہے۔ انھوں نے پرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچایا۔

توحید اور امن

اس پیغام نبوت کے دو خاص اجز اتھے توحید، اور امن۔ خدا کی نسبت سے، انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ایک اللہ کو اپنا الٰہ (معبود) بنائے اور اُس کی عبادت کرے، وہ اللہ کے حکموں کے مطابق، دنیا میں زندگی گزارے۔ یہ بات پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے، خاص طور پر سورہ الاعراف (7:59-85) اور سورہ الشعراء (180-105: 26) میں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

خدا کی طرف سے آنے والی پیغمبرانہ ہدایت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں دوسروں کے درمیان امن کے ساتھ زندگی گزارے۔ خدا کے نزدیک، امن کا تصور کیا ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page