Al-Risala · August 2011 · page 6

توحید اور امن

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۶

وہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں فطرت کے نقشے کے مطابق رہے۔ خالق نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، وہ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کرے۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: قد جائتکم بينة من ربكم، فأوفوا الكيل والميزان، ولا تبخسوا الناس أشياء هم، ولا تفسدوا فى الأرض بعد إصلاحها (85:7) یعنی تمھارے پاس تمھارے رب کے پاس سے کھلی ہوئی دلیل آ چکی ہے، تو تم ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو اور زمین میں فساد نہ ڈالو، اس کی اصلاح کے بعد۔

امن (peace) ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ امن کیا ہے، امن دراصل کوئی قائم کرنے کی چیز نہیں۔ فطرت کا نظام تمام تر امن ہی پر مبنی ہے۔ خالق نے جو دنیا بنائی ہے، اس میں خود تخلیقی نظام کے تحت، امن کی حالت قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ امن کی اس فطری حالت کو برقرار رکھے۔ انسان اگر فطرت کے اس نظام کو برقرار رکھے تو اس کا نام اصلاح ہے، اور انسان اگر فطرت کے اس نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نام فساد ہے۔

قرآن میں وارننگ کے طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان اگر فطرت کے نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کا ہر حصہ آلودگی (pollution) سے بھر جائے گا۔ ہوائی آلودگی (air pollution) اور آبی آلودگی (water pollution) جیسی چیزوں کے ذریعے دنیا انسان کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ انسانی عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اس فساد کے خلاف یہ انتباہ (warning) قرآن کی حسب ذیل آیت میں موجود ہے: ظهر الفساد فى البر والبحر بما كسبت أيدى الناس، ليذيقهم بعض الذي عملوا، لعلهم يرجعون (30:41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید وہ باز آئیں۔ پچھلی تاریخ میں آنے والے تمام پیغمبروں نے انسانی نسلوں کو ان دونوں حقیقتوں (توحید اور امن) کی طرف متوجہ کیا، مگر عجیب بات ہے کہ انسان پیغمبروں کو اپنا رہنمانہ بنا سکا۔ اس نے پیغمبروں کو حقیر سمجھ کر اُن کو نظر انداز کر دیا۔ اس تاریخی واقعے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اس نوعیت کی ایک قرآنی آیت

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page