Al-Risala · August 2011 · page 15

اجتماعی انقلاب کا دور

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵

ایک گلوبل ولیج (global village) بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت (tourism) نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ایک مستقل ٹورسٹ انڈسٹری (tourist industry) وجود میں آ گئی ہے۔ سیاحت اور تجارت، وغیرہ کے تحت روزانہ لوگ کروڑوں کی تعداد میں ادھر سے اُدھر جاتے ہیں۔ اس واقعہ نے موجودہ زمانے میں دعوت کا ایک نیا موقع کھول دیا ہے۔ اب دعوتی موقع روزمرہ کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہو رہا ہے کہ ہر روز کثیر تعداد میں داعی، مدعو کے علاقے میں جاتا ہے اور مدعو، داعی کے علاقے میں آتا ہے۔ اِس صورتِ حال نے دعوت کے نئے عالمی مواقع کھول دئے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اہل ایمان ان نئے مواقع کو دریافت کریں اور اُن کو دعوت کے حق میں استعمال کریں۔

5- پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کچھ لوگ جو آپ کے اوپر ایمان لائے، اُن کو وہاں مشرکین ستانے لگے۔ وہ ان کو جسمانی اذیت پہنچاتے۔ اِس وقت کچھ اہل ایمان نے پیغمبرِ اسلام سے اِس صورتِ حال کی شکایت کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ان حالات کو ہمارے لیے ختم کر دے۔ اُس وقت رسول اللہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے یہ حال تھا کہ ایک مومن کے جسم پر لوہے کی کنگھی کی جاتی تھی، اور اس کے سر پر آرا چلایا جاتا تھا، مگر اس قسم کی اذیت کے باوجود وہ اپنے دین پر قائم رہتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: واللہ لیتمنّ هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضرت موت، ولا يخاف إلا الله (صحیح البخاري، كتاب الأنبياء، باب من اختار الضرب والقتل، رقم الحدیث: 6943) یعنی خدا کی قسم، یہ امر (اسلام) ضرور اپنی تکمیل تک پہنچے گا، یہاں تک کہ یہ حال ہوگا کہ ایک شخص سوار ہو کر صنعاء سے حضرت موت تک جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا ڈر نہ ہوگا۔

اس حدیث میں صرف ایک زمانی واقعے کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ وہ مستقبل کے بارے میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page