اجتماعی انقلاب کا دور
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴
قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ امر پوری طرح ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس عمل کا ذکر ہے جو صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد شروع ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ میں وہ علمی واقعہ پیش آیا جس کو تاریخ میں اسپرچول کروسیڈس (spiritual crusades) کہا جاتا ہے۔ اس اسپرچول کروسیڈ کے بعد یورپ کے تمام بڑے بڑے دماغ سائنسی تحقیق میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے فطرت کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کیا۔ بیسویں صدی میں یہ عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اب آفاق وانفس کے وہ تمام چھپے ہوئے حقائق علمی طور پر ایک معلوم واقعہ بن چکے ہیں جو قرآن کے الفاظ میں تبیینِ حق کے لیے ضروری تھے۔ اکیسویں صدی کے داعیوں کا کام یہ ہے کہ وہ ان سائنسی حقائق کو جانیں اور اُن کو دعوتِ حق کے لیے استعمال کریں۔ یہ سائنسی حقائق دعوت کو مسلمہ علمی سطح پر مدلّل کرنے والے ہیں۔ 4- قرآن کی سورہ الحج میں بتایا گیا ہے کہ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے کعبہ کی تعمیر کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک اعلان عام کیا۔ اس کا ذکر قرآن کے ان الفاظ میں آیا ہے: وأذّن فى الناس بالحج يأتوك رجالاً وعلى كل ضامر يأتين من كل فجّ عميق (22:27) یعنی تم لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمھارے پاس آئیں گے پیدل بھی اور لاغر اونٹنیوں پر بھی، جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی راستوں سے۔ قرآن کی اس آیت کا براہِ راست تعلق حج کے سفر سے ہے۔ لیکن تو سیعی طور پر اُس میں یہ مفہوم شامل ہے کہ تدریجی عمل کے تحت ایک وقت آئے گا جب کہ لوگ دور دور سے سفر کر کے مکہ پہنچیں، یہاں تک کہ مکہ عالمی سفر کا مرکز بن جائے۔
قرآن کی اس آیت میں اشاراتی طور پر یہ بات موجود ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سفر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے اس پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیا ہے۔ عالمی آمدورفت اتنی بڑھی ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues