اجتماعی انقلاب کا دور
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷
بتایا گیا ہے کہ دجال جب ظاہر ہوگا تو اُس وقت اہلِ ایمان کی جماعت میں سے ایک شخص اٗس کے مقابلے کے لیے نکلے گا۔ اِس رجل مومن کے پاس تلوار یا اور کوئی اسلحہ نہیں ہوگا، لیکن اللہ کی توفیق سے وہ اس مقابلے میں حجت اور برہان کے ذریعے دجال پر غالب آجائے گا۔ اس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں: هذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، کتاب الفتن) یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔
یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں، اور نہ وہ کوئی پراسرار واقعہ ہے۔ یہ دراصل اٗس لمبے تاریخی عمل (historical process) کے نقطۂ انتہا (culmination) کو بتاتا ہے، جس کے نتیجے میں کسی رجل مومن کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہتھیار استعمال کئۓ بغیر صرف دلیل کی طاقت سے دجالی فتنہ (عظیم ترین شیطانی فتنہ) کا خاتمہ کر دے۔ اِس قسم کا دعوتی موقع چوں کہ پہلی بار وجود میں آئے گا، اِس لیے اٗس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت (greatest witness) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عظیم دعوتی موقع اکیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح ظہور میں آچکا ہے۔ آج کے اہل ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اِن جدید امکانات کو دریافت کریں اور پرامن منصوبہ کے ذریعے اٗس کو استعمال کرتے ہوئے وہ عظیم دعوتی رول انجام دیں جس کا آج کی تاریخ کو انتظار ہے۔ 8- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: إذا هـلـــك قيصر فلا قيصر بعده، وإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده (صحیح مسلم، کتاب الفتن، رقم الحدیث: 7511) یعنی جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا۔ اور جب کسرىٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسرىٰ نہ ہوگا۔
اس حدیث رسول میں جو بات کہی گئی ہے، اٗس کا تعلق ایک بادشاہ کے خاتمے سے نہیں ہے، بلکہ اٗس کا تعلق ایک دور کے خاتمہ سے ہے۔ اِس حدیث میں دراصل یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوگا جو آخر کار یہاں تک پہنچے گا کہ دنیا میں شخصی حکمرانی (dynasty) کا دور ختم ہو جائے گا اور عوامی حکمرانی (democracy) کا دور آجائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues