اجتماعی انقلاب کا دور
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸
اسی طرح ایک اور حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اہل ایمان پیش قدمی کرتے ہوئے ایک شہر تک پہنچیں گے۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے جنگ کریں گے اور نہ وہ تیر چلائیں گے۔ وہ صرف لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر کہیں گے اور شہر کی دیواریں گر جائیں گی، یہاں تک کہ وہ اس کے اندر داخل ہو جائیں گے (صحیح مسلم، کتاب الفتن)
ان روایات میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوگا۔ اس عمل کا نقطہ انتہا یہ ہوگا کہ دنیا سے مطلق العنان بادشاہت (dictatorship) کا دور ختم ہو جائے گا، یعنی وہ دور ختم ہو جائے گا جب کہ سیاسی طاقت ہی اصل طاقت ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد وہ حالات پیدا ہوں گے جب کہ نظریہ (ideology) کو طاقت کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ پرامن فکری جدوجہد کے ذریعے اُن مقاصد کو حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا جن کو پہلے صرف سیاسی طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہ انقلابی دور اب دنیا میں پوری طرح آ چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف طاقت کا ڈی سنٹرلائزیشن (de-centralization of power) پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔ آج وہ دور ختم ہو چکا ہے جب کہ طاقت صرف ایک سیاسی حاكم کے پاس ہوا کرتی تھی۔ اب ہر انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ سیاسی عہدہ (political seat) پر قابض نہ ہوتے ہوئے بھی جس مقصد کے لیے چاہے کام کرے۔ وہ ہتھیار کا استعمال کیے بغیر صرف امن کی طاقت سے اپنے مطلوب کو حاصل کر سکے۔ اسی طرح یہ پیشین گوئی بھی موجودہ زمانے میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکی ہے کہ لا إله إلا الله والله أكبر کا مشن لے کر اٹھنے والے لوگ کسی قسم کا مسلح ٹکراؤ کئے بغیر شہروں میں نُفوذ کریں اور لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائیں۔ حدیثِ رسول کی اس پیشین گوئی کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے دور شمشیر کا خاتمہ، دور دعوت کا آغاز۔ اکیسویں صدی میں اب اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس تاریخی تبدیلی کو دریافت کریں، وہ ان جدید امکانات کو استعمال کر کے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیں۔ موجودہ زمانے میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues