Al-Risala · August 2011 · page 26

اخوانِ رسول کی صفات

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۶

تک کہ ورہ چیز وجود میں آگئی جس کو مسلم کلچر کہا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان یہ تبدیلیاں پوری طرح واقع ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ رسول والا اصل اسلام مسلمانوں کے لیے اب اجنبی (غریب) بن چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام پر ہیں، حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ ایک بدلے ہوئے اسلام پر ہیں، نہ کہ اصل اسلام پر۔ اب اگر چہ اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، لیکن اخوان رسول کا رول ادا کرنے کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو رسول اور اصحاب رسول والے اسلام کو دوبارہ دریافت (rediscover) کریں، موجودہ مسلمانوں کا زمانہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے درمیان جو دوری (distance) واقع ہو چکی ہے، اس کو عبور کر کے وہ دوبارہ عہدِ صحابہ میں پہنچیں۔ اخوانِ رسول کا رول ادا کرنے والے اگر چہ اکیسویں صدی میں ہوں گے، لیکن اپنی فکر اور اپنی سیرت اور اپنے مشن کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اصحابِ رسول کے ہم زمانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا رول اگر چہ زمانے کے اعتبار سے مختلف ہے، لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دونوں کا رول ایک ہے۔

سیرت رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی ایک کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ (صفحات 208) پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس کتاب کے آخری باب میں دو بڑے دعوتی گروہوں کا ذکر تھا جو پیغمبرانہ مشن میں عظیم تاریخی رول ادا کرے گا۔ کتاب کی یہ سطریں یہاں نقل کی جاتی ہیں : ’’سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت و اہل کفر بظاہر کمزور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدتِ احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے، ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اللهم إن تهلك هذه العصابة، لا تُعبد بعدها فی الارض (خدایا، اگر یہ گروہ ہلاک ہو گا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی)۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سروسامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page