اخوانِ رسول کی صفات
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵
کریں اور از سر نو اس پر قائم ہو جائیں۔
بعد کے مسلمانوں میں اس قسم کا زوال کیوں پیش آئے گا۔ اس کا سبب رسول کے زمانے سے دوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا قریبی ماخذ رسول نہیں ہوتا، بلکہ بعد کے زمانے کے اکابر اُن کے لیے اُن کے دین کا قریب ماخذ بن جاتے ہیں، جن کو قرآن میں احبار و رُہبان (10:30) کہا گیا ہے۔
صحابہ کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ رسول تھا۔ تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ صحابہ بن گئے۔ اس کے بعد تبع تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ تابعین بن گئے۔ اسی طرح ہر نسل لیے اس کے دین کا قریبی ماخذ بدلتا رہا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ تدریجی طور پر ہوتی ہے۔ اس بنا پر وہ غیر محسوس طور پر جاری رہتی ہے۔ اس کا اندازہ لوگوں کو صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ بڑھتے بڑھتے وہ بڑی تبدیلی تک پہنچ جائے۔ مثلاً رسول سے جو دین صحابہ کو ملا، اُس میں سارا زوراسپِرٹ (spirit) پڑتا۔ اس کے بعد ہر نسل میں اس کے اندر تبدیلی آتی رہی، یہاں تک کہ عباسی دور میں جب فقہاء کا زمانہ آیا تو اب سارا راز ور مسائل، بالفاظ دیگر فارم (form) پر دیا جانے لگا۔ رسول کے زمانے میں، دین مبنی بر روح (spirit-based) تھا، فقہاء کے زمانے میں، دین مبنی بر مسائل (form-based) بن گیا ہے۔
اسی طرح رسول کے زمانے میں اسلام کا خارجی نشانہ صرف دعوت تھا۔ اُس زمانے میں اسلام ایک دعوتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے دعوتی ذہن کم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب آٹھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا تو مسلمانوں کے اندر دعوتی نشانہ سرے سے ختم ہو گیا۔ اب صرف ایک چیز اُن کا نشانہ بن گئی اور وہ تھا سیاسی اقتدار۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کا کوئی کلچر نہیں تھا۔ اُس زمانے میں رسول اور اصحاب رسول اسلام کو ایک مشن کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ پھر جب اسلام مختلف ملکوں میں پھیلا اور دوسری قوم کے لوگوں سے مسلمان کے تعلقات قائم ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل انٹرایکشن (interaction) کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان ایک کلچر بننے لگا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues