Al-Risala · August 2011 · page 28

اخوانِ رسول کی صفات

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸

اجتہادی رول ہوگا۔ اُن کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کے گہرے مطالعہ کے ذریعے اپنا رول دریافت کریں اوراُس کے مطابق عمل کرکے اخوان رسول کے درجے کے مستحق ٹھہریں۔ اِس معاملے میں اخوان رسول کے لیے صرف دو ہی چیزیں مددگار ہوسکتی ہیں، وہ دو چیزیں ہیں—دعا، اور اجتہاد۔ راقم الحروف نے اِس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اس تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے ساتھ لمبی مدت تک اپنے دن اور اپنی راتوں کو دعا میں گزارا ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے بعد ذاتی طور پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکیسویں صدی میں وہ تمام حالات پوری طرح ظاہر ہوچکے ہیں جو اخوان رسول کو اپنا تاریخی رول ادا کرنے کے لیے درکار ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اب انتظار کا وقت ختم ہوچکا ہے اور عمل کا وقت آخری طور پر آچکا ہے۔ اخوان رسول کے لیے خوش خبری قرآن کی سورہ الفیل (105) اور سورہ قریش (106) دوتوأم (twin) سورتیں ہیں۔

یہ دونوں سورتیں تقریباً ایک ہی وقت میں مکی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں ۔ یہ دونوں سورتیں اصحاب رسول کے لیے خوش خبری کی حیثیت رکھتی تھیں۔

اِن سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اصحاب رسول کو اپنے زمانے میں جو رول ادا کرنا ہے، اُس میں خدا پوری طرح اُن کے ساتھ ہے۔ اصحاب رسول خدا کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا نے اُن کے لیے پیشگی طور پر وہ اسباب مہیا کر دیے ہیں جن کی تائید سے وہ اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں۔ سورہ الفیل میں کعبہ کے تحفظ کا ذکر ہے۔ کعبہ دراصل وہ تاریخی عمارت تھی جس کے لیے یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام کی تحریک توحید کا عالمی مرکز بنے۔ اِسی مقصد کے تحت اللہ تعالی نے کعبہ کو معجزاتی طور پر ابرہا کے حملے سے بچایا۔ اس کے بعد ہی ممکن ہوا کہ اصحاب رسول، کعبہ اور بلدِ امین کو مرکز بنا کر مبنی بر توحید انقلاب برپا کریں۔ سورہ قریش میں، قریش کے لیے خدا کی خصوصی نصرت کا ذکر ہے۔ یہ قریش کون لوگ تھے، یہ اسماعیلی نسل کے وہ منتخب لوگ تھے جو دراصل مستقبل کے اصحاب رسول تھے۔ خدا کو مطلوب تھا کہ وہ محفوظ رہیں اور آخر کار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر وہ تاریخی رول ادا کریں جو اُن کے لیے مقدر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page