متلاشی حق نسل
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹
ہو چکا ہے۔ قرآن کے ساتھ خدا کا جو خاص معاملہ ہوا، اُس میں سے ایک معاملہ وہ تھا جس کو سورہ قریش کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أطعمهم من جوع، و امنهم من خوف (106:4) یعنی اُن کے لیے خصوصی طور پر رزق کی فراہمی اور خصوصی طور پر امن کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ قرآن کی ان دونوں سورتوں میں براہِ راست طور پر اُس تاریخی معاملے کا ذکر ہے جو اصحابِ رسول کے ساتھ پیش آیا۔ اسی کے ساتھ بالواسطہ طور پر ان دونوں سورتوں میں اُس واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے جو بعد کے اخوانِ رسول کے ساتھ پیش آنے والا تھا، یعنی اخوانِ رسول کے لیے ایک طرف مرکزِ عمل کی فراہمی اور دوسری طرف مواقع کار کے دروازے کا کھل جانا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں نصرت الہی کا یہ وعدہ امکانی طور پر ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اصحابِ رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے کہا تھا کہ: من سرّه أن يكون مثل هذه الامة فليؤدّ شرط الله فيها۔
یہ بات جو عمر فاروق نے قدیم زمانے میں اصحابِ رسول کے بارے میں کہی تھی، اُسی کو موجودہ زمانے میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ـــــ جو لوگ اخوانِ رسول کی جماعت میں شامل ہونے کی خوش قسمتی حاصل کرنا چاہتے ہوں، اُن کو چاہیے کہ وہ عصرِ حاضر کو سمجھیں اور جدید مواقع کو استعمال کرکے وہ رول ادا کریں جو اخوانِ رسول کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔
اصحابِ رسول کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں تین خاص امکانات فراہم کئے گئے تھے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں اخوانِ رسول کے لیے بھی جدید حالات کے اعتبار سے تین خاص مواقع پوری طرح فراہم ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کچھ باحوصلہ اہل ایمان ان مواقع کو دریافت کریں اور اپنے حکیمانہ عمل کے ذریعہ اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ ان تینوں امکانات کو حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے: 1- متلاشی حق نسل (seeker generation) 2- الیکٹرانک مرکز (electronic centre) 3- امن اور کشادہ رزق (peace and plenty)
متلاشی حق نسل
مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، حق کے متلاشی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues