جدید تبدیلی کا مقصد
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۳
بدل دیا۔ موجودہ زمانے میں زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہر اعتبار سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ تبدیلیاں تمام تر دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ یہ تبدیلیاں دعوت الی اللہ کے کام ہی کے لیے ظہور میں آئی ہیں۔ جو لوگ ان تبدیلیوں کو جانیں اور اُن کو بھر پور طور پر دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے استعمال کریں، وہی آخری دور کے وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوان رسول کہا گیا ہے۔ ادخال کلمہ اخوان رسول کو جو کام کرنا ہے، اس کو واحد نام دینا ہو تو وہ ’ادخال کلمہ‘ ہوگا۔ حدیث میں اس سلسلے میں أدخله الله كلمة الإسلام کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ادخالِ کلمہ کے اس عمل میں مدخل خود اللہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام اسباب خود اللہ کی طرف سے مہیا کئے جائیں گے جو عالمی ادخال کلمہ کے لیے ضروری ہیں۔ ادخال کلمہ کا پورا پراسیس خدا کی طرف سے ہوگا۔ اخوان رسول کو صرف یہ سعادت ملے گی کہ وہ اس عمل کا ایک شعوری حصہ قرار پائیں۔ دعوت الی اللہ کا کام ہمیشہ خدا کی نصرت خاص کے تحت انجام پاتا ہے۔ تاریخ کے آخری دور میں دعوت الی اللہ کا جو کام ہوگا، وہ بھی خدا کی خصوصی نصرت کے تحت انجام پائے گا۔ یہ نصرتِ خاص ہمیشہ معجزہ کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس معاملے میں، معجزہ سے کم درجے کی کوئی چیز نصرت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ البتہ یہ فرق ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت کے حق میں یہ معجزاتی نصرت خرق عادت کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی، اب موجودہ زمانہ میں یہ معجزاتی نصرت اسباب کی صورت میں ظاہر ہوگی، یعنی تاریخی عمل (historical process) کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے انفجارِ مواقع (opportunity explosion) کے ذریعے۔
اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قدیم زمانے کے داعیوں کو جو نصرت بذریعہ معجزات دی گئی تھی، موجودہ زمانے کے داعیوں کو وہ نصرت پورے دور کی تبدیلی کی صورت میں فراہم کردی گئی ہے۔ قدیم داعیوں کو یہ نصرت اگر وقتی معجزہ کے ظہور کے ذریعے ملی تھی، تو آج کے داعیوں کے لیے یہ نصرت پورے دور کو اُن کے موافق بنانے کی صورت میں عطا کردی گئی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues