جدید تبدیلی کا مقصد
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲
اب متشددانہ طریقہ کار کے ذریعے کسی مثبت مقصد کا حصول ممکن ہی نہیں رہا۔
مزید یہ کہ آج مذہبی آزادی (religious freedom) کا حق ایک مطلق حق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے جارحانہ انداز اختیار نہ کرے تو وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر دعوتی کا کام انجام دے سکتا ہے۔ گویا کہ قدیم عرب (قریش) کو جو امن محدود طور پر کعبہ کی نسبت سے ملا تھا، وہ امن اب جدید دنیا میں ایک زمانی انقلاب کے نتیجے میں عالمی سطح پر حاصل ہو چکا ہے۔ یہی معاملہ رزق کی کشادگی کا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل اسلام کے لیے رزق کی کشادگی کا واقعہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے جیسا واقعہ اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کشادگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے تیل کا خزانہ دریافت ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا کے تیل کے ذخائر کا 75 فی صد حصہ مسلم ملکوں میں واقع ہے۔ دوسری طرف، جدید صنعتی انقلاب نے کسب رزق کے مواقع سیکڑوں گنا زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ اگر اہل اسلام اپنی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا نہ کریں تو آج وہ دعوت الی اللہ کا کام رزق کی فراوانی کے ماحول میں انجام دے سکتے ہیں، جب کہ پچھلے لوگوں کو رزق کی تنگی کے ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام انجام دینا پڑتا تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ جدید دور (modern age) ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ ایک لفظ میں، اس کو روایتی دور کا خاتمہ اور غیر روایتی دور کا ظہور کہہ سکتے ہیں۔ آج کا دور فکر و عمل کے تمام پہلوؤں کے اعتبار سے کامل طور پر ایک بدلا ہوا دور ہے۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ قدیم زمانے کا آدمی اگر اچانک زندہ ہو کر آج کے زمانے میں آئے تو وہ سمجھے گا کہ شاید میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ یہاں کی ہر چیز اس کو نا قابل قیاس حد تک بدلی ہوئی دکھائی دے گی۔
جدید تبدیلی کا مقصد
یہ تبدیلیاں دنیا میں کس لیے آئی ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو آرام و عیش فراہم کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام مواقع اور ان تمام امکانات کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا کام اتنا زیادہ مطلوب کام ہے کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پورے دور کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues