ہندوستان میں خصوصی مواقع
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۵
بعد اس کو امن سے بدل دے گا (وليبدلنهم من بعد خوفهم أمنا)۔
قرآن کی اس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، اس کا تعلق نہ صرف سیاسی تبدیلی سے ہے اور نہ صرف زمانی تبدیلی سے۔ اس آیت میں دراصل دور کی تبدیلی کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دور اول میں اسلام کے ذریعے جو انقلاب آیا، اُس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک پراسس (process) جاری ہوا۔ یہ پراسس آخرکار اس انجام تک پہنچے گا کہ دنیا سے خوف کا دور ختم ہو جائے اور امن کا دور قائم ہو جائے۔ اس کے بعد اہلِ ایمان توحید کے مشن کو مذہبی آزادی کے ماحول میں انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے، جب کہ اس سے پہلے توحید کے مشن کو مذہبی جبر کے ماحول میں انجام دینا پڑتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ تبدیلی مکمل طور پر آچکی ہے۔ بیسویں صدی مذکورہ تاریخی پراسس کے نقطۂ انتہا (culmination) کی صدی ہے۔ اب لڑائی یا متشددانہ طریقہ کار کا مل طور پر ایک غیر متعلق (irrelevant) طریقہ بن چکا ہے۔ اب اگر اہل ایمان کو دوبارہ ’’خوف‘‘ کی حالت پیش آئے گی تو وہ خود اُن کی اپنی غلط پالیسی کی بنا پر آئے گی، نہ کہ زمانی حالت کی بنا پر۔ دور کی یہ تبدیلی پرامن دعوتی مشن کے لیے ایک عظیم تائید کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں اور بدستور متشددانہ کارروائی کرتے رہیں، وہ اپنے بارے میں اندھے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ اندھا پن اتنا زیادہ سنگین ہے کہ اْس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں کفر وانکار کا نام دیا گیا ہے۔ جنتی تہذیب تہذیب (civilization) کا آغاز قدیم زمانے میں اْس وقت ہوا جب کہ انسان نے لوہے کو دریافت کیا۔ یہ دور ہزاروں سال تک چلتا رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب کا آغاز ہوا۔ مسلم تہذیب کا بنیادی کارنامہ یہ تھا کہ اْس نے فطرت (nature) کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر اس کو تحقیق (investigation) کے دور میں داخل کیا۔ اس کے بعد سولھویں صدی میں مغربی تہذیب کا دور شروع ہوا۔ اس دور کا خاص پہلو میکانائزیشن آف پاور (mechanization of power) تھا۔ تہذیب کا سفر امکان کے اعتبار سے، ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues