ہندوستان میں خصوصی مواقع
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۶
ترقی اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ انسان کی قائم کردہ میکانکل صنعت ایک لازمی مسئلے سے دوچار ہے، اور وہ کثافت (pollution) ہے۔
کثافت کے مسئلے نے موجودہ زمانے میں فضاؤں اور سمندروں کو آلودگی سے بھر دیا۔ قرآن کے یہ الفاظ آج پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں: ظھر الفساد فی البرّ والبحر بما كسبت أيدى الناس ليذيقهم بعض الذى عملوا، لعلهم يرجعون (30:41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آجائیں ۔ عارفانہ دریافت کا سفر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ولو أن ما في الأرض من شجرة أقلام والبحر يمدّه من بعده سبعة أبحر، ما نفدت كلمات الله، ولو جئنا بمثله مددا (31:27) یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب ابھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔
اس آیت میں کلمات اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر، آلاء اللہ کہا گیا ہے، یعنی عجائب خداوندی (wonders of God)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو عبادت (51:56) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
صحابی مفسر عبداللہ بن عباس نے اس آیت میں، عبادت کا مطلب معرفت بتایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خصوصی مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، انسان کو سوچنے والا دماغ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور و فکر کے ذریعے تخلیقات میں چھپے ہوئے آلاء اللہ کو دریافت کرے، اور استعجاب کے درجے میں اُن کا اعتراف کرے۔ گویا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے:
I created man only to discover and appreciate the wonders of God. تہذیب کا سفر دراصل اسی عارفانہ دریافت کا سفر تھا، مگر اس سفر کا بھی ایک فی صد سے بھی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues