ہندوستان میں خصوصی مواقع
الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹
تعالیٰ نے اُن کو چنا کہ وہ بعد از اسلام کے انقلابی رول کو انجام دیں۔ آخرت کے دور میں جو مطلوب رول ادا کرنا ہے، اُس کو ایک لفظ میں، روحانی تہذیب (spiritual civilization) کو ظہور میں لانے کا رول کہا جا سکتا ہے۔ اس رول کو انجام دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روحانی سائنس داں (spiritual scientists) درکار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شعور موجودہ دنیا کے اعتبار سے، آخری دریافت کے مرحلے تک پہنچ گیا۔ یہ وہ اعلیٰ روحیں ہیں جو خدائی تخلیقات میں اس کے اندر چھپے ہوئے خدائی عجائب (divine wonders) کو دریافت کریں۔ اُن کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ محسوس کریں کہ اُس کے اظہار کے لیے اُن کے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔ کائناتی عجائب کو دیکھنے کے بعد دوبارہ وہ کہہ سکیں کہ ـــ خدایا، میں نہیں جانتا کہ میں تیرے تخلیقی عجائب کا بیان کس طرح کروں، اگر میں اس کو جانتا تو یقیناً میں انھیں مطلوب الفاظ میں اس کا اظہار کرتا: O God, I don't know how to appreciate your wonders. If I had known it, I would certainly have appreciated it in those words. موجودہ دنیا میں خدائی عجائب (divine wonders) کی ان فولڈنگ (unfolding) عام انسانی الفاظ میں ہوئی تھی، آخرت کی دنیا میں خدائی عجائب کی ان فولڈنگ خدا کی طرف سے دئے ہوئے خصوصی الفاظ کے ذریعے ہوگی۔ دنیا میں یہ کام انسان کی مدد سے انجام پایا تھا، آخرت میں یہ کام فرشتوں کی مدد سے انجام پائے گا۔ اس کے بعد عجائب خداوندی کے ظہور کا وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وأشرقت الأرض بنور ربھا ۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل پتے پر رابطہ کریں: The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 022-42214700, Fax: 022-28236323 Email: spiritual.msg@gmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues